Meri Tehreerein Shab-o-Roz

Meri Tehreer: Main To Faqat ik Shair Hoon

Meri Tehreer: Main To Faqat ik Shair Hoon
shattered dreams

Meri Tehreer: Main To Faqat ik Shair Hoon

میں تو فقط اک شاعر ہوں

وہ خوابوں کی دنیا میں رہنے والی معصوم ذہن کی لڑکی تھی جس پر تصوراتی زندگی سے بھرے میگزین اور ڈائجسٹ نے قبضہ کررکھاتھا۔ وہ حقیقی زندگی سے بہت دور تھی کہ دسویں کے بعد اُس کی تعلیم کا سلسلہ روک دیا گیا کہ لڑکیوں کا زیادہ پڑھنا اور کام کرنا اُس کے خاندان میں جائز نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اسکی زندگی کی دوڑ گھر کے کام کاج کے بعد وہی افسانوی رسائل تھے، جو اسے حقیقی دنیا سے دور ایک ایسی دنیا میں لے جاتے جہاں سب کچھ حسین تھا، رسائل سے نکلتی تو انٹرنیٹ کے فورمز پر جا بیٹھتی جہاں اسے ہر شے بھلی لگتی، اچھی اچھی باتوں  کو پڑھتی اور پھر خود ان میں کھو جاتی۔ بس یہی اسکی زندگی کا محور تھا جن کی بدولت اُسے شاعری سے شغف ہوگیا تھا۔

وہ سرمد کی شاعرانہ سوچ کی دیوانی تھی اور اُس کی لکھی ہوئی تحریروں سے بھی متاثرتھی۔ اُسے سرمد کا آن لائن ہونا بہت تحفظ دیتا تھا حالانکہ دونوں کی آپس میں کوئی بول چال نہ تھی، کوئی رابطہ نہیں تھا، مگر پھربھی اُسے سرمد کاموجود ہونا بہت تسلی دیتا تھا۔جب کبھی سرمدآن لائن نہیں آتا تو وہ اداس ہوجاتی تھی، اُسے کسی شے کی کمی محسوس ہونے لگتی تھی اور منتظررہتی کہ سرمدکب آن لائن آتا ہے۔ پھرسرمد کی آمد اُس کے لیے خوشیوں کا سامان لیے ہوتی۔ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی خود کو سرمد کی طرف مائل کر دیتی، اسکے لکھے ہوئے ایک ایک حرف کو بغور پڑھتی، کبھی کبار وہ سرمد کا دوسری لڑکیوں کو جواب دینے سے اپنے دل میں جلن محسوس کرتی۔ اسے اندازہ ہی نہیں تھا کہ وہ کس سمت بڑھ رہی ہے۔

حفصہ نے اپنے ذہن میں سرمد کا ایک تخیل بنا لیاتھا، ایک آئیڈئل تراش لیاتھا کہ سرمد ایک بہت بارعب اور دبدبہ والا انسان ہوگا اور یہ تصور حفصہ کوسرمد کی تحریروں ہی سے تو ملا تھا، سرمد کے قلم میں ایسا رعب اور دبدبہ تھا کہ بہت سے لوگ متاثرہوئے بغیر نہیں رہ سکے،سرمدکی شاعری میں ایک چاشنی تھی ایک مٹھاس تھی جو حفصہ کے دل میں گھرکرجاتی تھی، اور وہ گھنٹوں سرمد کی شاعری میں کھوئی رہتی تھی۔ کبھی وہ سرمد کی شاعری میں اپنی جھلک دیکھتی کبھی خود ہی کہ یہ دھوکہ دے لیتی کہ سرمد نے اسکے لیے لکھا ہے، حفصہ ایک عجیب کش مکش میں کھو گئی۔۔۔

پھر جب فورم پہ اعلان کیا گیا کہ سرمداپنی آواز میں اپنی شاعری ریکارڈکروائیں گے جسے فورم کے دوسرے ممبر سن سکیں گے تو حفصہ بے چینی سے اُس دن کا انتظارکرنے لگی۔

سرمد کی آواز میں بھی ایک جادو تھا! مردانہ جاہ و جلال سے بارعب آواز حفصہ کے دل میں تیرکی طرح پیوستہ ہوگئی۔ الفاظ کی ادائیگی، اندازِ بیاں اور زبان کی شائستگی حفصہ کے دل پہ ضربِ کاری ثابت ہوئی۔ اب حفصہ خود کو مکمل طورپر سرمد کی قید میں محسوس کرنے لگی۔ اُسے محسوس ہونے لگا کہ یہ دوری اب اُس سے برداشت نہیں ہوسکتی، اُس نے سرمدسے رابطہ جوڑنے کا تحیہ کیا۔ بہت جھجھکتے ہوئے اُس نے سرمد کو پی ایم (پرائیویٹ میسج) کیا اور جس جواب کی اُسے امیدتھی وہی جواب اُسے ملا:خلوص اور نیک دلی سے منور! حفصہ دل دے بیٹھی!

اب ان کی ہرروز پی ایم پہ بات ہوتی جو ایم ایس این تک جاپہنچی، حفصہ کی باتوں سے سرمدکومحبت کا احساس ہونے لگا جو کہ سرمد کو اداس کرنے لگا۔ سرمد نے ہزار ہا بار حفصہ کو کچھ بتانے کی کوشش کی مگر حفصہ ہربار تصوراتی زندگی میں کھوجاتی۔ وہ کچھ بیان  کرنے لگتی جو اس نے ڈائجسٹوں میں پڑھا تھا – ایک حسین اور آئیڈیل زندگی، جس میں وہ تھی سرمد تھا اور ہر پل ہر لمحہ محبتوں کا پیغامبر۔۔۔

مگرسرمد ایک پریکٹیکل انسان تھا، وہ حفصہ کوحقیقت کی طرف لانا چاہتا تھا ۔مگر حفصہ کسی اور دنیا میں کھوئی ہوئی تھی۔ سرمد نے حفصہ کو اپنا موبائل نمبر دیا جو اُسکی انجانی خواہش تھی مگر وہ فون کرتے شرماتی تھی۔ فون کوسامنے رکھے وہ سوچ میں پڑجاتی، نمبرڈائل کرتی اور رکھ دیتی تھی۔ آخرکار اُس نے اپنے اند رہمت پیدا کی اور سرمد کو فون کیا، سرمد سے بات کرکے حفصہ کے دل کوایک سکون ملا، مگر سرمد مزید اداس ہوگیاکیونکہ حفصہ وہ بات سننا ہی نہیں چاھتی تھی جو وہ بتانا چاہتا تھا۔

سرمد حفصہ کے دل کو کسی طور ٹھیس نہیں پہنچانا چاہتا تھاکہ وہ ایک انوکھے احساس میں گم تھی، سرمد کو احساس تھا کہ حفصہ اُس کی محبت میں ڈوبی ہوئی ہے مگر جو حقیقت سرمد کے دل کو چاٹ رہی تھی اُسکا کیا ہوتا؟ بہت سوچ بچارکے بعدسرمد نے حفصہ کو ملاقات کے لیے بلایا، وہ چاہتا تھاکہ حفصہ جو سننا نہیں چاہ رہی وہ دیکھ لے! لیکن حفصہ کے لیے ملاقات کا پیغام ایک ایسی خواہش کے مترادف تھا جس پہ وہ سب کچھ لٹانے کو تیار تھی، وہ اپنے من پسند شاعر، اپنے آئیڈئل مصنف اور سب سے بڑھ کراُس بارعب اور دبدبے والے انسان سے ملنا چاہتی تھی جسکی غائبانہ محبت میں گرفتار تھی،سرمد حفصہ کے لیے محض ایک شاعرہی نہیں تھا بلکہ زندگی گزارنے کے لیے ایک پرفیکٹ پارٹنربھی، کہ یہی تو اُس نے سرمد کی باتوں سے اخذکیا تھا، یہی تو اُسے محسوس ہوتاتھا اور یہی خواب وہ دیکھاکرتی تھی!

انتظار کسی چیز کا بھی ہو انتظار بہت اذیت ناک ہوتا ہے! حفصہ سرمد کے انتطار میں تھی اور اپنے من میں ہزاروں ارمان لیے خوابوں کی دنیا میں گم تھی، اُسے اپنی منزل نظر آرہی تھی، من میں ہزاروں باتیں سوچتی کہ آج سرمد سے ملاقات کے بعد اماں کو بتاؤں گی، سرمد بارات لیکر آئے گا اور میں سرمد کی سیج پر اپنے جسم سے خوشبو بکھیروں گی، سرمد کی سیج سجاؤنگی، حفصہ خود پر رشک محسوس کررہی تھی کہ جس انسان کوبہت سے لوگوں نے پسند کیا ہے وہ اُس سے وابستہ ہے، اسکا جسم حفصہ کی اور حفصہ کا جسم اسکی ملکیت ہو گا۔

حفصہ کو سرمد کے انتظار میں گزرنے والا ایک ایک لمحہ ایک زہرِ مہلک کی طرح محسوس ہورہاتھا….

خزاں میں درختوں سے گرے زرد پتوں پر اُسے کسی کے چلنے کی آواز سنائی دی اور قدموں کی چاپ اُسی کی جانب آرہی تھی، ’سرمد‘….. حفصہ کے دل کی دھڑکن تیز ترہوتی جارہی تھی، بندآنکھوں سے اُس کے من میں بے شمار حسین خواب آئے اور انہیں حسین خوابوں کو لے کر اُس نے پلٹ کر سرمد کو اپنی جانب آتے دیکھا…………

لبِ لعلیں پر بکھری ہوئی تبسم مرجھا گئی، چہرے کی سرخی ماندپڑگئی،  ٹھنڈی اور یخ بختہ  ہوا نے زلفوں کو بکھیردیا، تصورات میں بنائے ہوئے سرمد کی تصویر کے ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے، ایک طوفان مچا اور حفصہ کے ارمانوں کی دنیا پاش پاش ہوگئی، سرمد بیساکھیوں پرچلتا ہوا ایک لاغر و معذور انسان تھا ،سانولا رنگ، بکھرے بکھرے بال،معمولی شکل و صورت،ایک ٹانگ دوسری سے چھوٹی!

یہ سرمد ہے؟؟؟ نہیں!!! یہ سرمد نہیں ہو سکتا، حفصہ کا دل بے اختیار بول اٹھا، یہ وہ سرمد نہیں جسے میں نے چاہا ہے۔ وہ تو کوئی دور نگر کا شہزادہ ہے، جاہ جمال و جلال والا یہ تو کوئی اور سرمد ہے، شاید یہ فقط ایک شاعر سرمد ہے۔ کچھ بھی ہے یہ وہ سرمد نہیں….حفصہ اپنے بکھرے خوابوں کو لے لیکر سرمد کو وہیں چھوڑکرچلدی، ہرطرف اداسی چھاگئی،خزاں کی ٹھنڈ نے جذبات کو بھی ٹھنڈا کر دیا۔۔۔

سرسراتی  ہواؤں نے ایک تمہید باندھی:

میں تو فقط اک شاعر ہوں، میں تو فقط اک شاعر ہوں
بے نشاں منزل کا، بے سروپا مسافر ہوں
میں تو فقط اک شاعر ہوں

پاؤں میں تیرے پازیبوں کی اک نٹ کھٹ ہے
زندگی میری بیساکھیوں کی کھٹ کھٹ ہے
میں نے تو چاہا کہ حقیقت آشکار کر دوں
یہ منظور نہ تھا کہ ترا خواب تار تار کر دوں
تو خوابوں میں کھوئی اک نوخیز کلی ہے
حقیقت کی دنیا میں مگر بہت بے کلی ہے
نہ خواب تو تراش کہ خواب حقیقت نہیں ہوتے
بیت جائیں جو پل نہیں اس کے لیے روتے
ذرا دیکھ تو غور سے ان تصورات کے مجسموں کو
اور دیکھ پھر حقیقت میں ان شکستہ جسموں کو
ٹوٹا ہوا اک تصور ہوں، سب پہ ظاہر ہوں
میں تو فقط اک شاعرہوں

Meri Tehreer: Main To Faqat ik Shair Hoon

بقلم: مسعود

Meri Tehreer: Main To Faqat ik Shair Hoon

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment