Meri Shairi Shab-o-Roz

Meri Shaairi: Aag Lagey Us Chaman Ko

Meri Shaairi: Aag Lagey Us Chaman Ko

Meri Shaairi: Aag Lagey Us Chaman Ko

آگ لگے اُس چمن کو

Meri Shaairi: Aag Lagey Us Chaman Ko

آگ لگے اُس چمن کو‘ جس کا نگہباں نہ ہو
کاش کوئی مجھ جیسا بے سروساماں نہ ہو

یہ بے بسی‘ مجبوری اور تنہائی عذاب ہے
خدا کرے کہ دنیا میں کوئی بلدِ سنساں نہ ہو

اُس فتنۂ دہر کی شربتی اکھیوں کے صدقے
ممکن جن کے بغیر مکمل تصور کا جہاں نہ ہو

اُس کی مست اداؤں کا دیوانہ ہے ہر کوئی
دید نہ ہو اسکی تو ہم میں جاں نہ ہو

ازل سے حسن والوں کی عادت ہے تڑپانا
اُسے کھو کر اے دل اتنا پشیماں نہ ہو

آباد رہیں یہ حسیں جو تڑپاتے ہیں دوسروں کو
دنیا میں اُس جیسے کہیں رفیقاں نہ ہو

دل صد چاک ما است مانندِ آئینہ
تجھ جیسا شیشہ گر کسی کا دلستاں نہ ہو

سدا جئیے وہ جس نے ہم کو دیا ہے دردِدل
دل کی لگی محبت ہے‘ پریشاں نہ ہو

خزاں کہہ کر ہم سے دامن بچاتے ہو تم
جچتی نہیں یہ بہار گر خزاں نہ ہو

راغب تھا کل تک جن کی محبت کا مسعودؔ
دل کے لٹنے پر کہتا ہے کہ تم سا ستم رساں نہ ہو

Aag, chaman, bebasi, majboori, tanhai, azab, fitna, husn, dard-e-dil, muhabbat, daman, urdu shayeri.

Shab-o-roz
Image of Shab-o-Roz

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment