Humara Moashra

Rishwat – aik Ikhlaqi Beemari

Rishwat - aik Ikhlaqi Beemari

رشوت – ایک اخلاقی بیماری

Rishwat – aik Ikhlaqi Beemari

کوشش

ہماری یہ کوشش ہے کہ پیغام پر آنے والوں کو صاف ستھری تفریح کیساتھ ساتھ! ایسے مضامین پڑھنے کو ملیں جن میں سچ کی تلخی ہو۔! میں نے اپنے کالمنز میں سچ لکھنے کی کوشش کی ہے۔! یہی وجہ ہے کہ میں بدنام ہوتا رہا ہوں۔ سچ لکھنا اتنا مشکل نہیں ہوتا جتنا سچ سننا اور سچ سننے والے لوگ کمتر ہوتے جا رہے ہیں۔

مجھے سوشل میڈیا اور اردو فورمز میں تلخ لکھنے پر! اور تلخ ہولنے پر بار بار بین کیا جاتا رھا ہے! مگر سچ لکھ کر اور اسکی تلخیاں برداشت کر کے بہت مزہ ملتا ہے۔! یہی وجہ ہے کہ اب میرا قلم سچائی کے انگارے اگلتا رہتا ہے!

ہمیں ابھی مزید بہت کام کرنا ہے۔! قلم کی سچائی کو کبھی رکنا نہیں چاہیے۔ ان کٹھن راہوں میں ایک دو کو قلم کی زبان نہیں بولنا چاہیے بلکہ ہم سب پر فرض بنتا ہے! کہ ہم برائیوں کو بے نقاب کریں۔! فقظ بے نقاب ہی نہیں بلکہ انکا سد باب کرنے کی کوشش کریں، تو پھر آپ کا قلم خاموش کیوں ہے؟ آئیے اور اس میدان میں ہمارا ساتھ دیجیے۔

گڈول

آج میں جس مسئلے پر لکھنے جا رھا ہوں وہ ایک قدیم مسئلہ ہے۔! مگر ایسا جو بالخصوص ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رھا ہے۔! ہمارا مسئلہ رشوت ہے۔

رشوت ایک ایسی لعنت ہے جو کم و بیش ہر معاشرے میں پائی جاتی ہے۔! اگر کوئی یہ کہے کہ یورپ رشوت سے پاک ہے تو وہ غلط ہے! انٹرنیشنل سروے کے مطابق ڈنمارک دنیا کا تیسرا رشوت سے پاک ترین ملک ہے!

میں جانتا ہوں کہ یہاں رشوت کس انداز میں دی اور لی جاتی ہے۔! مہذب قوموں نے رشوت کو مہذب نام دے رکھے ہیں۔! ان ہی میں ایک نام ہے Goodwill ہے! چونکہ گڈ ول نیک نیتی سے دی جاتی ہے اور لی جاتی ہے اس لیے اسے رشوت نہیں گرادانا جاتا۔! مہذب قوموں میں بھی رشوت ایک غلیظ مقام رکھتی ہے! اور جب ایک کمپنی کو کوئی بڑا آرڈر درکار ہوتا ہے! تو وہ آپس میں تحائف کا لین دین رکھتے ہیں اور انہی میں سے وہ اپنا مفاد نکلوا لیتی ہیں۔

مگر ان ممالک میں اگر آپ آزادانہ پیسے کی آفر کریں یا اپنے کام نکلوانے کے لیے پیسے آفر کریں تو وہ صریغ جرم سمجھا جاتا ہے۔

رشوت کیوں دی اور لی جاتی ہے؟ اس کے بہت سارے مقاصد ہوتے ہیں۔! گڈ ول کا تو بتا دیا مگر ان ممالک میں عوامی سطح پر رشوت کا کوئی تصور نہیں بلکہ ایک براہ راست جرم ہے۔! اسکی وجہ ان ممالک کا سسٹم ہے جو ایسی کسی بات کو ہونے نہیں دیتا۔

رشوت

ہمارے ہاں رشوت کھلم کھلا اور دھڑلے کی چوٹ پر دی جاتی ہے۔! اپنا کام جلد از جلد طور پر نکلوانے کے لیے سسٹم کو برباد کیا جاتا ہے! اور جنکا حق ہوتا ہے وہ حق مارا جاتا ہے۔ رشوت دینے اور لینے والے لوگ سسٹم، قانون اور قاعدوں و ضابطوں کو نقصان پہنچاتے ہیں اور اس میں انہیں قطعی شرمندگی محسوس نہیں ہوتی۔

اپنا الو سیدھا کرنے کے لیے دوسروں کے حق پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہے۔! چونکہ سسٹم میں یہ تخمِ ناجائز جنم لے چکا ہوتا ہے لہٰذا سسٹم پروان بھی ایسے ہی چڑھتا ہے !کہ اسکو ایک حصہ سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہ ایک گناہ ہے جس میں کم و بیش ہماری ساری قوم ملوث ہے۔! اس کی ابتدا ٹاپ لیول سے ہوتی ہے اور دیکھا دیکھی یہ نظام کا حصہ بن جاتی ہے۔

ہر کوئی اپنا اپنا کام نکلوانے کے لیے جب تک رشوت نہ دیں انکا کام نہیں ہوتا !– نظام مفلوج ہو جاتا ہے اور برائی سر چڑھ کر بولتی ہیں۔!

اگر اس میں اعلیٰ سطح کے لوگوں کا قصور ہے تو قصور عوام کا بھی ہے! مگر عوام کیا کرے؟ جب معاشرے میں جائز کام بھی ہونے سے رہ جائیں تو ایسے ذرائع نکل آتے ہیں۔! چونکہ لوگوں کی تنخواہیں انکے اخراجات  سے کم ہوتی ہیں اور اخراجات وسیع ہوتے ہیں تو کمائی کم پڑ جاتی ہے !اسکو پورا کرنے کے لیے اوپر کی کمائی ضروری ہو جاتی ہے – یہی رشوت کے گناہ کو جنم دیتی ہے۔

مفلوج نظام

اور جب نظام مفلوج ہو جائے تو کئی ایک مقام پر رشوت لینا اپنا فرض سمجھ لیا جاتا ہے۔! حرام کا پیسہ بظاہر آسانی سے کمایا جاتا ہے! مگر حرام کے پیسوں سے اولاد کی تربیت کرنا حرام عمل ہے! مشکل ہے سہل نہیں  مگر اپنے اخراجات کو اپنی آمدن کے مطابق رکھنے کی کوشش کریں۔

پاکستان کے ایک دورے کے بعد جب میں واپس آ رھا تھا تو ائر پورٹ پر مجھے روک دیا گیا! کہ میرے تمامتر کاغذ چوری ہو گئے تھے اور میرے پاس صرف فوٹوں اسٹیٹ کاپی تھیں۔

مگر بجائے اسکے کہ مجھے قانونی طور پر روکا جاتا کہ کاپی پر سفر نہیں کیا جا سکتا،!   مجھے ایک آفیسر نے کہا کہ آپ کچھ عنایت کر دیں ہم آپ کو جانے دیں گے۔! میں نے ائر پورٹ نکلتے ہوئے اس آفیسر کو کہا کہ “میں رزقِ حلال کماتا ہوں”۔

یہ بات ہم عام طور پر کھلے عام دیکھتے ہیں! کہ پولیس والے ہاتھوں سے ہاتھ ملا کر دس دس روپے کا نوٹ پکڑ لیتے ہیں۔! اگر دس روپے پر اپنا ایمان بیچنا ہے تو بحصورِ خدا کیا کہیں گے؟

ہمارے نظام کو بڑے اعلیٰ پیمانے پر تباہ و برباد کیا گیا ہے۔ شاید ہی ہمارے ہاں کوئی بھی شعبہ زندگی ایسا نہیں جہاں پر رشوت کی ذلت موجود نہیں!

کیا ایسا ممکن ہے کہ آپ بھی اس انکار کا حوصلہ پیدا کریں اور اپنا کام جلد از جلد نکلوانے کی بجائے سسٹم کو چلنے دیں؟ رشوت مانگنے والوں کو بے نقاب کریں۔ انکو رپورٹ کرنا سیکھیں۔ کبھی نہ کبھی تو کوئی اثر پڑۓ گا۔ اس کے خلاف سوشل میڈیا کمپئیں چلائیں۔۔۔ Say No To Bribe

جب تک ہمارے معاشرے کو اس لعنت سے صاف نہیں کیا جاتا اس وقت تک ہمارا معاشرہ صحتمند نہیں ہو گا۔

Rishwat – aik Ikhlaqi Beemari, Dishonesty, Bribe, Social Plague, Corruption.

بقلم: مسعودؔ

SC orders 500 Buildings in Karachi to raze

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment