Meri Tehreerein

London Bombing – Shaitan Ka Harba

London Bombing - Shaitan Ka Harba
London Bombing 2005

London Bombing – Shaitan Ka Harba

لندن میں دہشت گردی؛ ۵۰ سے زائدشہری موت کاشکار، سینکڑوں زخمی!

مغربی میڈیا نے لندن میں ہونے والی دہشت گردی کی خبر سے دنیا کو ہلاکررکھ دیا، ’حساس‘ ممالک نے ممکنہ دہشت گردی کی وجہ سے سیکیورٹی تیزکردی۔ ابھی تک یقین کے ساتھ نہیں کہا جاسکا کہ اِس بربریت کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔ بی بی سی کے مطابق ایک ویب سائٹ جس ممکنہ تعلق القاعدہ تنظیم سے ہے ، اُس نے ذمہ داری قبول کی ہے۔ بلئیر کہتا ہے کہ جنہوں نے یہ کام کیا ہے ان کے دلوں میں ظلم بھراہوا ہے۔ ادھر بش کا بیان آیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔

لندن میں جو کچھ ہوا اس کا افسوس ہے۔ ایسا فعل ایک رتی برابر رحم کی گنجائش نہیں رکھتا، اس کے مجرموں کو شدید سے شدید سزا دی جائے۔ لیکن!!!! سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اِس بربریت کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے؟؟ القاعدہ کا؟ ایک تنظیم جسے پچھلے ۳ سال سے مسلسل دہشت گردی کے نام پہ بربریت کا شکار کیا جارہا ہے؟ اور جسکا میرے نزدیک کوئی وجود شروع سے ہے ہی نہیں!

حالات کا جائزہ لیں!
مغربی ممالک نے افریقی مارکیٹوں کو مکمل طور پر تباہ کررکھا ہے، اوپر سے افریقی مافیا کوکڑوڑوں روپوں کی گرانٹ دی جاتی ہے تاکہ مختلف ممالک کے ڈکٹیٹرز کو خموش کیا جاسکے۔ جو لیڈرز یورپیئن ممالک کی بات نہیں مانتے ان پر ڈکٹیٹرشپ کا لیبل چسپاں کردیا جاتا ہے۔ مغربی ممالک نے افریقہ کو ایک صدی سے اپنے صنعتی غلاظت جو انسانی زندگی کے لیے خطرہ بھی ہوسکتی ہے، اُسے زمین میں دفن کرنے کے کیے افریقہ ممالک کی سرزمین استعمال کی ہے اور کر رہے ہیں۔ حال ہی میں غربت کے خاتمے کے لیے جو میوزیکل شو ہوا ہے اور جی ایٹ کے سمٹ کے بعد جو تقریباً پچاس بلین کی گرانٹ دی جارہی ہے، وہ کبھی بھی عوام کے ہاتھوں تک نہیں پہنچے گی بلکہ وہی مافیا جو انہیں مغربی طاقتوں نے بٹھارکھا ہے ان کے ہاتھ میں جائے گا اور پھر وہی سے سیدھا مغربی ممالک کے بنکوں میں محفوظ ہوجائے گا۔ دنیا کو غربت کے خاتمہ کا بتایا جائے گامگرکچھ عرصہ بعد وہی قرضہ معاف کردیاجائیگا۔بالکل اُسی طرح جس طرح پاکستانی لیڈرز کے منہوں کو بند کرنے لیے کڑوڑوں کا قرضہ دیا جاتا ہے اور بعد میں وہی قرضہ معاف کردیا جاتا ہے۔

یورپ میں اندھیرا ہی نہیں، یہاں پر بہت باضمیر لوگ بھی موجود ہیں اور وہ شورشرابابھی کرتے ہیں، جس کا تازہ ترین ثبوت جی ایٹ کی کانفرنس ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے جی ایٹ کے ظالم لیڈروں کی بھیانک سوچ کے خلاف ایڈنبرگ میں ہنگامے بھی کیے ہیں مگر انہیں نہ صرف منتشرکردیا گیا بلکہ دنیا کی نظریں ان سے ہٹانے اور عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کے لیے لیے خود ہی لندن میں بم بلاسٹ کروائے تاکہ جی ایٹ کی ناکامی کا چرچہ دنیا میں نہ ہو اور دنیا کسی اور بات پہ متوجہ ہوجائے۔ اور افسوس اِن ناسوروں کا یہ حربہ بھی کامیاب ہو گیا ہے!

اگلا نشانہ
گیارہ ستمبرامریکہ اور چھ جولائی لندن؛ ان دونوں میں کیا بات مشترک ہے؟ حالات کچھ یہ بتا رہے تھے کہ امریکہ اور اُس کی اتحادی پالتو ایک مدت سے ایران اور شام پر ضرب لگانے کے بہانے تلاش کررہے ہیں مگر انہیں کوئی معقول وجہ نہیں مل رہی تھی ۔ اب ان کے پاس ایک اچھی خاصی وجہ ہے کہ لندن بلاسٹ کا ٹانکہ ایران اور شام کے ساتھ منسلک کردیا جائے گا۔ من گھڑت تفتیشیں تیار کرلی جائیں گی اور دنیا کو باور کردیا جائے گا کہ ابھی ایران اور شام میں بھی دہشت گرد موجود ہیں۔دنیا کی ایک بہت بڑی خامی ہے کہ جو میڈیا دکھاتا ہے وہی سچ تسلیم کیا جاتا ہے۔ اور ایک بار پھر ایک بہت بڑے جھوٹ کے بل بوتے پرمغربی جارحیت کی ایک بھیانک تصویر نظرآئے گی۔ خود اپنے ہاتھوں سے اپنی تباہی کرکے شیطان کے پیروکار ایک بار پھرحقیقی بے گناہ عوام کے خون سے ہولی کھیلیں گے ۔ اور ہم مسلمان اپنے اپنے گھر میں بیٹھ کر یہ تماشا دیکھتے رہیں گے!

مسعود  ۷ جولائی ۲۰۰۵

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment