Meri Tehreerein Politics Shab-o-Roz

Arabs!

Arabs!

Arabs!

عرب

عرب اسلامی دنیا کے سب سے بڑے ناسور ہیں۔امتِ مسلمہ پہ آج جو زوال ہے ،عرب اس کا سب سے بڑے قصوروار ہیں۔اِن ناسوروں نے تیل سے حاصل ہونے والی دولت کو عیاشی کے ان ناقابلِ تلافی گناہوں پہ صرف کرتے رہیں ہیں کہ جس کو جان کر نہ صرف مسلم شرمندہ ہوں بلکہ نامسلم بھی نگاہیں جھکا لیں۔ امریکہ میں عیاشی کے اڈے انہیں عربوں کی دولت سے آباد ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں۔ اِن پاسبانِ امتِ محمدیہ نے جو جو گُل کھلائے ہیں انہیں دیکھ کر ہر فکرمند مسلمان یہ کہنے پر مجبور ہوجاتاہے کہ جب تک امتِ مسلمہ کی حکومت ایسے شیطان صفت لوگوں کے ہاتھوں میں ہے، اسلام دنیا میں رسواہی ہوتا رہے گا۔ اسلام کواسکا اصل مقام دلانے کے لیے سب سے پہلے اپنے اندرونی شیطانوں سے چھٹکاراحاصل کرنا ہوگا۔

کبھی (اور آج بھی) ہندوستان میں یہ قانون رائج تھا (ہے) کہ انسان کی چار طبقے ہیں،برھمن، چھتری، وید اور اچھوت۔ دیکھو کیا قیامت ہے، آج انہیں عربوں نے اُس خطہ عرب میں جہاں سے انسانیت کو تمام تر کی غلامیوں سے نجات ملی تھی اور جہاں عربی کو عجمی پر سے جو فوقیت تھی ، ختم ہونے کی تعلیم ملی تھی ، آج اسی خطہ میں ان سوروں نے انسان کو تو کیا مسلمانوں کو طبقات میں تقسیم کیاہواہے۔یوں اس خطہ میں جہاں سے انسانی عظمت کی سب سے اچھی تربیت ملی تھی، آج وہیں انسان چار طبقات میں منقسم ہے:

۱ مقامی عرب
۲ علاقائی عرب
۳ مغربی لوگ (یورپئین اور امریکی)
۴ پاکستانی، ہندوستانی،افریقی وغیرہ

۱: عربوں نے تمام انسانیت سے اُوپر اپنے آپ کو رکھا ہوا ہے۔کوئی خواہ وہ کتنا ہی بڑا مجرم، جواری، عیاش کیوں نہ ہو، وہ پھر بھی دوسرے لوگوں سے بہتر ہے۔اس کی ایک مثال وہ عرب شہزادے ہیں جنہوں نے امریکی عیاشی کے اڈوں کو اپنی دولت سے آباد کر رکھا ہے، اور پیچھے عرب میں کئی ایک شادیاں رچا رکھی ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی حکومت اور بلند مرتبہ بچانے کے لیے اپنی انا کو امریکیوں کے ہاتھوں گروی رکھوا رکھا ہے۔اپنی دولت کو ان لوگوں نے مغربی بنکوں میں رکھا ہوا ہے اور انہیں سود درسود دے رہے ہیں اور خود بے خبری کی نیند سو رہے ہیں۔ انکے نذدیک مسلمان چاہیں صومالیہ میں مریں، سوڈان میں قحط زدہ زندگی گزاریں، فلسطین میں یہودیوں کے ہاتھوں قتل ہوں، کشمیر میں ان کے خون سے ہولی کھیلی جائے، بنگلہ دیش میں سیلاب میں ہلاک ہوں یا کہیں بھی ان پر قیامت ٹوٹے، ان کو کسی بات کا کوئی احساس نہیں۔انہیں احساس ہے تو صرف اس بات کا کہ امریکہ ناراض نہ ہوجائے۔اور ان کی ہوس پوری ہوتی رہے۔

۲: دوسرے درجے پہ وہ عرب ہیں جو مقامی نہیں، یعنی جن کا تعلق مصر، لیبیا، تونس، الجزائراور مرکش وغیرہ سے ہے۔

۳: تیسرے درجے پہ وہ لوگ آتے ہیں، جنہوں نے عربوں پر مکمل سیاسی غلبہ حاصل کررکھا ہے۔ذراغور کریں، وہ لوگ جنہوں نے اسلام کو ہر طرح سے ضرب لگانے کی ٹھانی ہوئی ہے، جنہوں نے افغانستان میں ایک ایسی جنگ شروع کی ہوئی ہے جس کا مخالف ایک ایسی تنظیم ہے جس کا وجود اکثر یورپئین صحافی کے نذدیک شروع سے ہے ہی نہیں۔اس بغیر وجود کے تنظیم کو ہوا بھی انہیں عربوں نے ہی دی ہے۔وہ لوگ جنہوں نے عربوں کی حفاظت صرف اور صرف اس لیے کی ہے کہ ان کے پاس تیل کی دولت ہے، جب تک یہ دولت ان کے پاس ہے امریکہ اور مغرب کی نظر میں یہ لوگ اچھے ہیں اور ان کی چاپلوسی کرتے رہیں گے۔ اور یہ عرب اس قدر بے وقوف قوم ہیں کہ انہوں نے اپنی دولت مغربی بنکوں میں جمع کی ہوئی ہیں اور وہی ممالک ان کی دولت پہ اپنے ملک کو خوشحال بنائے ہوئے ہیں۔یہ لوگ ان مسلمانوں سے ایک درجہ بہتر ہیں جو پاکستان وغیرہ سے اعلیٰ اسلامی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

۴: چوتھے طبقے پر دنیا کے دوسرے مسلمان ہیں، عربوں کے نذدیک اچھوت! یہ وہ لوگ ہیں جو خواہ تقویٰ میں ہزاروں عربوں سے بہتر ہوں، عربوں کے نذدیک اچھوت ہی ہیں۔ ان کا کام صرف مزدوری کرناہے اور بس! ان لوگوں کے پاسپورٹ اور قانونی کاغذات ، غلامی کی دستاویزات کے طور پر یہ لوگ اپنے پاس رکھ لیتے ہیں ، غلاموں کی ان سے مزدوری لینا اور غلاموں جیسا سلوک کرنا ان عربوں کا شیوا ہے۔ ان کے اس سلوک کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے گویا ہم آج پھر ۱۴۰۰سال پیچھے چلے گئے ہیں، جہاں سیاہ فام غلاموں سے ایسا سلوک کیا جاتا تھا، اور جس سلوک کو ختم کرنے کے لیے اسلام کا نورروشن ہوا تھا،آج وہی سلوک کسی غیر کے ساتھ نہیں، عرب مسلمان اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ کر رہے ہیں۔مزدوری کے لیے انہیں صبح سویرے ایک ٹرک میں لے جایا جاتا ہے اور شام کو ان کے مقام پر اتاردیا جاتاہے۔ کوئی اگر ان کے اس سلوک کے خلاف آواز اٹھائے اُسے اس انسانیت سوز جیلوں میں پہنچایادیا جاتا ہے جنہیں دیکھ کر ایک مرتبہ پھر ۱۴۰۰سال پیچھے خیال لیے جاتا ہے۔ سارادن جب سورج کا جلتا ہوا دیاسر پرہوتا ہے،اور پاؤں کے نیچے آگ کی طرح جلتی ہوئی ریت ہوتی ہے اس وقت انہیں اس ریت پر بٹھا دیا جاتا ہے۔ آپ کو بھی میری طرح حضرت بلال حبشی یاد آتے ہوں گے،جنہیں یہودی اس لیے جلتی ہوئی ریت پر سزادیتا تھا کہ اُنہوں نے اسلام قبول کیا ہے….مگر اِن عربوں نے تو مسلمانوں کے طبقات بنا دئیے ہیں اور کافروں کو مسلمانوں سے بلنددرجے پر بٹھا دیاہے۔جس بات سے رسالتمآب ﷺ نے منع فرمایا تھا، اِن عربوں نے وہی کام کر دیا ہے۔کبھی میں سوچتا ہوں کہ جب امِ مسلمہ کے ہیڈکواٹر میں اس قدر اسلام سوز گناہ سرزد ہو رہے ہیں تو پھر باقی دنیا میں اسلام کو نئی زندگی کیسے مل سکتی ہے؟؟؟

مسعود – 14 اگست 2002

Arabs!

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment