خوشبو

سکوں بھی خواب ہوا ، نیند

ParveenShakir
پروین شاکر – مجموعۂ کلام: خوشبو

سکوں بھی خواب ہوا ، نیند بھی ہے کم کم  پھر
قریب آنے لگا دوریوں کا موسم پھر

بنا رہی ہے تری یاد مجھ کو سلکِ گہر
پرو گئی مری پلکوں میں آج شبنم پھر

وہ نرم لہجے میں کچھ کہہ رہا ہے پھر مجھ سے
چِھڑا ہے پیار کے کومل سُروں میں مدھم پھر

تجھے مناؤں کے اپنی انا کی بات سنوں
الجھ رہا ہے مرے فیصلوں کا ریشم پھر

نہ اس کی بات میں سمجھوں نہ وہ مری نظریں
معاملاتِ زباں ہو چلے ہیں مبہم پھر

یہ آنے والا نیا دکھ بھی اس کے سر ہی گیا
چٹخ گیا مری انگشتری کا نیلم پھر

وہ ایک لمحہ کہ جب سارے رنگ ایک ہوئے
کسی بہار نے دیکھا نہ ایسا سنگم پھر

بہت عزیز ہیں آنکھیں مری اسے لیکن
وہ جاتے جاتے انہیں کر گیا ہے پرنم پھر

سکوں بھی خواب ہوا ، نیند بھی ہے کم کم  پھر


urdubazm

 

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھے ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham Network Community

FREE
VIEW