خوشبو

خلش

[nk_awb awb_type=”color” awb_color=”#”][dropshadowbox align=”none” effect=”curve” width=”auto” height=”” background_color=”#FCBFF8″ border_width=”3″ border_color=”#780070″ ]
پروین شاکر – مجموعۂ کلام: خوشبو [/dropshadowbox] [dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#FCBFF8″ border_width=”3″ border_color=”#780070″ ]

خلش

عجیب طرز ِملاقات اب کے بار رہی
تمہی تھے بدلے ہوئے یا مری نگاہیں تھیں!
تُمہاری نظروں سے لگتا تھا جیسے میری بجائے
تُمہارے گھر میں کوئی اور شخص آیا ہے
تُمہارے عہدے کی دینے تمھیں مُبارکباد
سو تم نے میرا سواگت اُسی طرح سے کیا
جو افسرانِ حکومت کے ایٹی کیٹ میں ہے!
تکلفاً مرے نزدیک آ کے بیٹھ گئے
پھر اہتمام سے موسم کا ذکر چھیڑ دیا
کُچھ اس کے بعد سیاست کی بات بھی نکلی
اَدب پہ بھی کوئی دوچار تبصرے فرمائے
مگر نہ تم نے ہمیشہ کی طرح یہ پُوچھا
کہ وقت کیسا گُزرتا ہے تیرا، جانِ حیات!
پہاڑ دن کی اذیت میں کِتنی شدت ہے
اُجاڑ رات کی تنہائی کیا قیامت ہے!
شبوں کی سُست روی کا تجھے بھی شکوہ ہے؟
غمِ فراق کے قصے ،نشاطِ وصل کا ذکر
روایتاً ہی سہی، کوئی بات تو کرتے!

خلش

[/dropshadowbox][/nk_awb]

 

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھے ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham Network Community

FREE
VIEW