خوشبو

آنے والی کل کا دکھ

[nk_awb awb_type=”color” awb_color=”#”][dropshadowbox align=”none” effect=”curve” width=”auto” height=”” background_color=”#FCBFF8″ border_width=”3″ border_color=”#780070″ ]
پروین شاکر – مجموعۂ کلام: خوشبو [/dropshadowbox] [dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#FCBFF8″ border_width=”3″ border_color=”#780070″ ]

آنے والی کل کا دکھ

مِری نظر میں اُبھر رہا ہے
وہ ایک لمحہ
کہ جب کسی کی حسین زُلفوں کی نرم چھاؤں میں آنکھ مُوندے
گئے دنوں کا خیال کر کے
تم ایک لمحے کو کھو سے جاؤ گے اور شاید
نہ چاہ کر بھی اُداس ہو گے
تو کوئی شیریں نوایہ پُوچھے گی
میری جاں ! تم کو کیا ہُوا ہے؟
یہ کس تصور میں کھو گئے ہو؟
تمھارے ہونٹوں پہ صبح کی اوّلیں کرن کی طرح سے اُبھرے گی مُسکراہٹ
تم اُس کے رُخسار تھپتھپا کے
کہو گے اُس سے
میں ایک لڑکی کو سوچتا تھا
عجیب لڑکی تھی۔۔۔کِتنی پاگل!
تُمھاری ساتھی کی خُوبصورت جبیں پہ کوئی شکن بنے گی
تو تم بڑے پیار سے ہنسو گے
کہو گے اُس سے
ارے وہ لڑکی
وہ میرے جذبات کی حماقت
وہ اس قدر بے وقوف لڑکی
مرے لیے کب کی مر چکی ہے!
پھر اپنی ساتھی کی نرم زُلفوں میں اُنگلیاں پھیرتے ہوئے تم
کہو گے اُس سے
چلو، نئے آنے والی کل میں
ہم اپنے ماضی کو دفن کریں

آنے والی کل کا دکھ

[/dropshadowbox][/nk_awb]

 

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھے ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham Network Community

FREE
VIEW