Meri Shairi

مجھے تیری یاد کی پرچھائیاں ڈھستی ہیں

پرچھائیاں

مجھے تیری یاد کی پرچھائیاں ڈھستی ہیں
سلگتی ہوئی رات کی تنہائیاں ڈھستی ہیں

گزرتی ہے جب بھی گلی سے بارات کوئی
سروں میں گونجتی شہنائیاں ڈھستی ہیں

کوئے جاناں میں سجی ہے محفلِ غزل
کوئے جاناں کی بزم آرئیاں ڈھستی ہیں

بے بنیاد ہیں عدو کی تمام تر کارستانیاں
لغویات ہیں سب ہوائیاں ڈھستی ہیں

دل کے زخم تو بھر ہی جائیں گے لیکن
اب اپنی محبت کی گہرائیاں ڈھستی ہیں

اول اول دل بے سدھ ، بیخود سا رہتا ہے
آخر آخر محبت کی رسوائیاں ڈھستی ہیں

مسعودؔ

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھے ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham Network Community

FREE
VIEW