خوشبو

آج ملبوس میں ہے کیسی تھکن کی خوشبو

[nk_awb awb_type=”color” awb_color=”#”][dropshadowbox align=”none” effect=”curve” width=”auto” height=”” background_color=”#FCBFF8″ border_width=”3″ border_color=”#780070″ ]
پروین شاکر – مجموعۂ کلام: خوشبو [/dropshadowbox] [dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#FCBFF8″ border_width=”3″ border_color=”#780070″ ]

آج ملبوس میں ہے کیسی تھکن کی خوشبو
رات بھر جاگی ہوئی جیسے دلہن کی خوشبو

پیرہن میرا مگر اس کے بدن کی خوشبو
اُس کی ترتیب ہے ایک ایک شکن کی خوشبو

موجۂ گُل کو ابھی اذنِ تکلم نہ ملے
پاس آتی ہے کسی نم سخن کی خوشبو

قامتِ شعر کی  زیبائی کا عالم مت پوچھ
مہرباں جب سے ہے اس سرو بدن کی خوشبو

ذکر شاید کسی خورشید بدن کا بھی کرے
کو بہ کو پھیلی ہوئی میرے گہن کی خوشبو

عارض گل کو چھوا تھا کہ دھنک  سی بکھری
کسی قدر شوخ ہے ننھی سی کرن کی خوشبو

کس نے زنجیر کیا ہے رمِ آہُو چشماں
نکہتِ جاں ہے انہیں دشت و دمن کی خوشبو

اس اسیری میں ہر سانس کے ساتھ آتی ہے
صحنِ زنداں میں انہیں دشتِ وطن کی خوشبو

آج ملبوس میں ہے کیسی تھکن کی خوشبو

[/dropshadowbox][/nk_awb]

 

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھے ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham Network Community

FREE
VIEW