خوشبو

وہ سرِ شاخِ گل

[nk_awb awb_type=”color” awb_color=”#”][dropshadowbox align=”none” effect=”curve” width=”auto” height=”” background_color=”#FCBFF8″ border_width=”3″ border_color=”#780070″ ]
پروین شاکر – مجموعۂ کلام: خوشبو [/dropshadowbox] [dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#FCBFF8″ border_width=”3″ border_color=”#780070″ ]

وہ سرِ شاخِ گل
( نذرِ احمد ندیم قاسمی )

وہ سایہ دار شجر
جو مجھ سے دور، بہت دور ہے، مگر اس کی
لطیف چھاؤں
سجل ،نرم چاندنی کی طرح
مرے وجود، میری شخصیت پہ چھائی ہے!
وہ ماں کی بانہوں کی مانند مہربان شاخیں
 جو ہر عذاب میں مجھ کو سمیٹ لیتی ہیں
وہ ایک مشفقِ دیرینہ کی دعا کی طرح
شریر جھونکوں سے پتوں کی نرم سر گوشی
 کلام کرنے کا لہجہ مجھے سکھاتی ہے
 وہ دوستوں کی حسیں مسکراہٹوں کی طرح
شفق عذار، دھنک پیرہن شگوفے ، جو
مجھے زمیں سے محبت کا درس دیتے ہیں !
اداسیوں کی کسی جانگداز ساعت میں
 میں اس کی شاخ پر سر رکھ کے جب بھی روئی ہوں
تو میری پلکوں نے محسوس کر لیا فوراً
 بہت ہی نرم سی اک پنکھڑی کا شیریں لمس

(نمی تھی آنکھ میں لیکن میں مسکراتی ہوں!)

کڑی ہے دھوپ
 تو پھر برگ برگ ہے شبنم
تپاں ہوں لہجے
 تو پھر پھول پھول ہے ریشم
ہرے ہوں زخم
تو سب کونپلوں کا رس مر ہم!
وہ ایک خوشبو
جو میرے وجود کےاندر
 صداقتوں کی طرح زینہ زینہ اتری ہے
 کرن کرن مری سوچوں میں جگمگاتی ہے

(مجھے قبول ، کہ وجداں نہیں یہ چاند مرا
یہ روشنی مجھے ادراک دے رہی ہے مگر !)

وہ ایک جھونکا
 جو اس شہر گل سے آیا تھا
 اب اس کے ساتھ بہت دور جا چکی ہوں میں
 میں ایک ننھی سی بچی ہوں اور خموشی سے
 بس اس کی انگلیاں تھامے، اور آنکھیں بند کیے
 جہاں جہاں لیے جاتا ہے، جا رہی ہوں میں
وہ سایہ دار شجر
جو دن میرے لیے ،ماں کا نرم آنچل ہے
وہ رات میں میرے آنگن پہ ٹھہرنے والا
شفیق نرم زبان مہربان بادل ہے
میرے دریچوں میں جب چاندنی نہیں آتی
جو بےچراغ کوئی شب اترنے لگتی ہے
تو میری آنکھیں کرن کے شجر کو سوچنے لگتی ہیں
دبیز پردے نگاہوں سے ہٹنے لگتے ہیں
ہزار چاند سرِ شاخِ ابھرتے ہیں

وہ سرِ شاخِ گل

[/dropshadowbox][/nk_awb]

 

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھے ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham Network Community

FREE
VIEW