آہٹ

فلک سے چاند ستاروں سے جام لینا ہے

Basheer Badr - Aahat
[nk_awb awb_type=”color” awb_color=”#72FFFF”][dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#00FABD” border_width=”5″ border_color=”#014333″ ]
بشیربدر – مجموعۂ کلام: آہٹ [/dropshadowbox] [dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#00FABD” border_width=”5″ border_color=”#014333″ ]

فلک سے چاند ستاروں سے جام لینا ہے
مجھے سہر سے نئی ایک شام لینا ہے

کسے خبر کہ فرشتے غزل سمجھتے ہیں
خدا کے سامنے کافر کا نام لینا ہے

معاملہ ہے ترا بدترین دشمن سے
مرے عزیز محبت سے کام لینا ہے

مہکتی زلف سے خوشبو، چمکتی آنکھ سے دھوپ
شبوں سے جام، سحر کا سلام لینا ہے

تمہاری چال کی آہستگی کے لہجے میں
سخن سے دل کو مسلنے کا کام لینا ہے

نہیں میں میرؔ کے در پر کبھی نہیں جاتا
مجھے خدا سے غزل کا کلام لینا ہے

بڑے سلیقے سے نوٹوں میں اس کو تلوا کر
امیرِ شہر سے اب انتقام لینا ہے

[/dropshadowbox][/nk_awb]

 

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھے ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham Network Community

FREE
VIEW