آہٹ

ہمارے پاس تو آؤ، بڑا اندھیرا ہے

Basheer Badr - Aahat
[nk_awb awb_type=”color” awb_color=”#72FFFF”][dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#00FABD” border_width=”5″ border_color=”#014333″ ]
بشیربدر – مجموعۂ کلام: آہٹ [/dropshadowbox] [dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#00FABD” border_width=”5″ border_color=”#014333″ ]

ہمارے پاس تو آؤ، بڑا اندھیرا ہے
کہیں نہ چھوڑ جاؤ، بڑا اندھیرا ہے

اداس کر گئے بے ساختہ لطیفے بھی
اب آنسوؤں سے رلاؤ، بڑا اندھیرا ہے

کوئی ستارہ نہیں پتھروں کی پلکوں پر
کوئی چراغ جلاؤ، بڑا اندھیرا ہے

حقیقتوں میں زمانے بہت گزار چکے
کوئی کہانی سناؤ، بڑا اندھیرا ہے

کتابیں کیسی اٹھا لائے میکدے والے
غزل کے جام اٹھاؤ، بڑا اندھیرا ہے

غزل میں جس کی ہمیشہ چراغ جلتے ہیں
اسے کہیں سے بلاؤ، بڑا اندھیرا ہے

وہ چاندنی کی بشارت بے حرفِ آخر تک
بشیر بدرؔ کو لاؤ، بڑا اندھیرا ہے

[/dropshadowbox][/nk_awb]

 

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھے ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham Network Community

FREE
VIEW