آہٹ

تھا میر جن کو شعر کا آزار مر گئ

Basheer Badr - Aahat
[nk_awb awb_type=”color” awb_color=”#72FFFF”][dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#00FABD” border_width=”5″ border_color=”#014333″ ]
بشیربدر – مجموعۂ کلام: آہٹ [/dropshadowbox] [dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#00FABD” border_width=”5″ border_color=”#014333″ ]

تھا میر جن کو شعر کا آزار مر گئے
غالب تمہارے سارے طرفدار مر گئے
جذبوں کی وہ صداقتیں مرحوم ہو گئیں
احساس کے نئے نئے اظہار مر گئے
تشبیہ و استعارہ و مز و کنایہ کیا
پیکر تراش شعر کے افکار مر گئے
ساقی تری شراب بڑا کام کر گئی
کچھ راستے میں، کچھ پسِ دیوار مر گئے
تقدیس دل کی عصیاں نگاری کہاں گئی
شاید غزل کے سارے گناہ کار مر گئے
شعروں میں اب جہاد ہے، روزہ نماز ہے
اردو غزل میں نئے تھے کفار مر گئے
اخبار ہو رہی ہے غزل کی زبان اب
اپنے شہید آٹھ، ادھر چار مر گئے
مصرعوں کو ہم نے نعرہ تکبیر کر دیا
گیتوں کے پختہ کار گلوکار مر گئے
اسلوب تحت اتنا گرجدار ہو گیا
مہدی حسن کے حاشیہ بردار مر گئے
تنقیدی اصطلاحوں کے مشاق شہ سوار
گھوڑوں پہ دوڑے آئے سردار مر گئے
ناز و ادا سے مچھلیاں اب ہیں غزل سرا
تہمد پکڑ کے صاحبِ دستار مر گئے
یا رب طلسمِ ہوش رہا ہے مشاعرہ
جن کو نہیں بلایا، وہ غم خوار مر گئے

[/dropshadowbox][/nk_awb]

 

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھے ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham Network Community

FREE
VIEW