آہٹ

چراغ لے کے تیرے شہر سے گذرنا ہے

Basheer Badr - Aahat
[nk_awb awb_type=”color” awb_color=”#72FFFF”][dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#00FABD” border_width=”5″ border_color=”#014333″ ]
بشیربدر – مجموعۂ کلام: آہٹ [/dropshadowbox] [dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#00FABD” border_width=”5″ border_color=”#014333″ ]

چراغ لے کے تیرے شہر سے گذرنا ہے
یہ تجربہ بھی ہمیں ایک بار کرنا ہے

میں وہ پہاڑ ہوں جو کٹ رہا ہے پانی میں
یہ دل نہیں ہے مرے آنسوؤں کا جھرنا ہے

مرے عزیز میں اتری ندی میں کیا اتروں
مجھے چڑھے ہوئے دریا کو پار کرنا ہے

بہت جدید ہوں لیکن یہ میرا اثاثہ ہے
اسی قدیم گلی سے مجھے گزرنا ہے

تمہیں خبر نہیں سورج بھی عکس ہے میرا
تمام دن کا مجھے انتظام کرنا ہے

وہ ایک شخص کہ جس کو غزل بھی کہتے ہیں
اسی کے نام سے جینا، اسی پہ مرنا ہے

[/dropshadowbox][/nk_awb]

 

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھے ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham Network Community

FREE
VIEW