آہٹ

ٹوٹے ہوئے ستار کے سب تار کس گئے

Basheer Badr - Aahat
[nk_awb awb_type=”color” awb_color=”#72FFFF”][dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#00FABD” border_width=”5″ border_color=”#014333″ ]
بشیربدر – مجموعۂ کلام: آہٹ [/dropshadowbox] [dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#00FABD” border_width=”5″ border_color=”#014333″ ]

ٹوٹے ہوئے ستار کے سب تار کس گئے
بارش ہوئی کہ درد کے نغمے برس گئے

کیسی سیاہ رات تھی دہلیز پر کھڑی
وہ مسکرا دیئے تو اجالے برس گئے

شادابیوں کے دور کا انجام یہ ہوا
اب کے تو بوند بوند کا دریا ترس گئے

اب خاک اڑ رہی ہے گلابوں کے شہر میں
وہ لُو ہے اب کے کہ پتھر جھلس گئے

گھر کے خلوص کیا گیا سب کچھ چلا گیا
باتوں میں رس نہیں رہا، ہاتھوں کے جس گئے

کچھ رشک مہر و ماہ یہاں آئے تھے کبھی
کوئی تو کچھ بتائے کہاں جا کے بس گئے

[/dropshadowbox][/nk_awb]

 

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھے ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham Network Community

FREE
VIEW