آہٹ

وحشی اسے کہو جسے وحشت غزل ہے

Basheer Badr - Aahat
[nk_awb awb_type=”color” awb_color=”#72FFFF”][dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#00FABD” border_width=”5″ border_color=”#014333″ ]
بشیربدر – مجموعۂ کلام: آہٹ [/dropshadowbox] [dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#00FABD” border_width=”5″ border_color=”#014333″ ]

وحشی اسے کہو جسے وحشت غزل ہے
انسان کی لازوال محبت غزل سے ہے

ہم اپنی ساری چاہتیں قربان کر چکے
اب کیا بتائیں کتنی محبت غزل سے ہے

لفظوں کے میل جول سے کیا قربتیں بڑھیں
لہجوں میں نرم نمر شرافت، غزل سے ہے

اظہار کے نئے نئے اسلوب دے دیئے
تحریر و گفتگو میں نفاست غزل سے ہے

یہ سادگی، یہ نغمگی، دل کی زبان میں
وابستہ فکر و فن کی زیارت غزل سے ہے

شعروں میں صوفیوں کی طریقت کا نور ہے
اردو زباں میں اتنی طہارت غزل سے ہے

اللہ نے نوز دیا ہے تو خوش رہو
تم کیا سمجھ رہے ہو، یہ شہرت غزل سے ہے

[/dropshadowbox][/nk_awb]

 

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھے ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham Network Community

FREE
VIEW