آہٹ

خونِ دل خود درا سے تحریر کریں گے

Basheer Badr - Aahat
[nk_awb awb_type=”color” awb_color=”#72FFFF”][dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#00FABD” border_width=”5″ border_color=”#014333″ ]
بشیربدر – مجموعۂ کلام: آہٹ [/dropshadowbox] [dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#00FABD” border_width=”5″ border_color=”#014333″ ]

خونِ دل خود درا سے تحریر کریں گے
ہم جلتی بریدہ ہی سے تقریر کریں گے

ممتاز ڈوب گئی آبِ رواں میں
ہم تاج محل پانی میں تعمیر کریں گے

اقلیم سخن پر تو حکومت ہے ہماری
تقسیم فقیروں میں یہ جاگیر کریں گے

تعبیر بدلنے کا ہنر سیکھ لیا ہے
اب ہم بھی تجھے خواب میں تصویر کریں گے

وہ فخر کرے گا کہ مجھے دیکھ چکا ہے
اس طرح ملاقات کی تدبیر کریں گے

ہم آپ کے وارث ہیں مصاحب تو نہیں ہیں
ہم آپ کی تقریر پہ تقریر کریں گے

اب ْلاٗ کا سفر ختم ہوا، آ گلے لگ جا
تو خواب ہے ہم خواب کو تعبیر کریں گے

پانی کی جگہ ہم نے سدا زہر پیا ہے
مر جائے گا، ہم جس کو بغل گیر کریں گے

[/dropshadowbox][/nk_awb]

 

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھے ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham Network Community

FREE
VIEW