آہٹ

خوشبو کی طرح آیا، وہ تیز ہواؤں میں

Basheer Badr - Aahat
[nk_awb awb_type=”color” awb_color=”#72FFFF”][dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#00FABD” border_width=”5″ border_color=”#014333″ ]
بشیربدر – مجموعۂ کلام: آہٹ [/dropshadowbox] [dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#00FABD” border_width=”5″ border_color=”#014333″ ]

خوشبو کی طرح آیا، وہ تیز ہواؤں میں
مانگا تھا جسے ہم نے دن رات دعاؤں میں

تم چھت پر نہیں آئے، میں گھر سے نہیں نکلا
یہ چاند بہت بھٹکا ساون کی گھٹاؤں میں

اس شہر میں اک لڑکی بالکل ہے غزل جیسی
بجلی سی گھٹاؤں میں، خوشبو سی اداؤں میں

معسم کا اشارہ ہے خوش رہنے دو بچوّں کو
معصوم محبت ہے، پھولوں کی خطاؤں میں

ہم چاند ستاروں کی راہوں کے مسافر ہیں
ہم رات چمکتے ہیں تاریک خلاؤں میں

بھگوان ہی بھیجیں گے چاول سے بھری تھال
مظلوم پرندوں کی معصوم سبھاؤں میں

دادا بڑے بھولے تھے سب سے یہی کہتے تھے
کچھ زہر بھی ہوتا ہے انگریزی دواؤں میں

[/dropshadowbox][/nk_awb]

 

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھے ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham Network Community

FREE
VIEW