آہٹ

تالاب بے چمک ہیں، جہاں مچھلیاں نہ ہوں

Basheer Badr - Aahat
[nk_awb awb_type=”color” awb_color=”#72FFFF”][dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#00FABD” border_width=”5″ border_color=”#014333″ ]
بشیربدر – مجموعۂ کلام: آہٹ [/dropshadowbox] [dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#00FABD” border_width=”5″ border_color=”#014333″ ]

تالاب بے چمک ہیں، جہاں مچھلیاں نہ ہوں
اخبار بے مزہ ہے، اگر سرخیاں نہ ہوں

میں پوچھتا ہوں میری گلی میں وہ آئے کیوں
جس ڈاکیے کے پاس تری چٹھیاں نہ ہوں

ہم کو بڑے خلوص سے مر جانا چاہیے
جب زندگی میں تھوڑی بھی دشواریاں نہ ہوں

اس آگ کو خدا مری جھگی سے دور رکھ
جس آگ میں مہکتی ہوئی روٹیاں نہ ہوں

آنسو بہت اہم ہیں ان آنکھوں کے واسطے
وہ آسماں نہیں ہے، جہاں بدلیاں نہ ہوں

لڑکے ہیں اپنے باپ کی جاگیر کے رقیب
وہ گھر بھی کوئی گھر ہے جہاں لڑکیاں نہ ہوں

[/dropshadowbox][/nk_awb]

 

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھے ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham Network Community

FREE
VIEW