آہٹ

اچھا تمہارے شہر کا دستور ہو گیا

Basheer Badr - Aahat
[nk_awb awb_type=”color” awb_color=”#72FFFF”][dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#00FABD” border_width=”5″ border_color=”#014333″ ]
بشیربدر – مجموعۂ کلام: آہٹ [/dropshadowbox] [dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#00FABD” border_width=”5″ border_color=”#014333″ ]

اچھا تمہارے شہر کا دستور ہو گیا
جس کو گلے لگا لیا، وہ دور ہو گیا

کاغذ میں دب کے مر گئے کیڑے کتاب کے
دیوانہ بے  پڑھے لکھے مشہور ہو گیا

محلوں میں ہم نے کتنے ستارے سجا دیئے
لیکن زمیں سے چاند بہت دور ہو گیا

تنہائیوں نے توڑ دی ہم دونوں کی اَنا!
آئینہ بات کرنے پہ مجبور ہو گیا

دیوی سے کہنا اس کی کہانی سنائے
جو بادشاہ عشق میں مزدور ہو گیا

صبح وصال پوچھ رہی ہے عجب سوال
وہ پاس آ گیا کہ بہت دور ہو گیا

کچھ پھل ضرور آئیں گے روٹی کے پیرا میں
جس دن مرا مطالبہ منظور ہو گیا

[/dropshadowbox][/nk_awb]

 

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھے ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham Network Community

FREE
VIEW