آہٹ

یہ خلا ہے عرشِ بریں نہیں

Basheer Badr - Aahat
[nk_awb awb_type=”color” awb_color=”#72FFFF”][dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#00FABD” border_width=”5″ border_color=”#014333″ ]
بشیربدر – مجموعۂ کلام: آہٹ [/dropshadowbox] [dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#00FABD” border_width=”5″ border_color=”#014333″ ]

یہ خلا ہے عرشِ بریں نہیں، کہاں پاؤں رکھوں زمیں نہیں
ترے در پہ سجدے کا شوق ہے، جو یہاں نہیں تو کہیں نہیں

کسی بت تراش نے شہر میں مجھے آج کتنا بدل دیا
میرا چہرہ میرا نہیں رہاِ ، یہ جبیں بھی میری جبیں نہیں

ہے ضرور میں بھی مصلحت، وہ جو ہنس کے پوچھے ہے خیریت
کہ محبتوں میں غرض نہ ہو، نہیں ایسا پیار کہیں نہیں

وہیں درد و غم کا گلاب ہے، جہاں کوئی خانہ خراب ہے
جسے جھک کے چاند نہ چوم لے، وہ محبتوں کی زمیں نہیں

تری زلف زلف سجاؤں کیا، تجھے خواب خواب دکھاؤں کیا
میں سفر سے لوٹ کے آؤں، مجھے خود بھی اس کا یقیں نہیں

[/dropshadowbox][/nk_awb]

 

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھے ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham Network Community

FREE
VIEW