Meri Shairi

ایک قطعہ

ایک قطعہ

ایک قطعہ

ہم اہلِ درد طرب کی محفلیں سجاویں گے کیا؟
دھواں ہوئے جاتے ہیں راستے منزل پاویں گے کیا؟
کچھ تو بچا رکھو ناکامئِ  محبت کی داستاں
گر وہ پوچھ ہی بیٹھیں کہ سناؤ تو سناویں گے کیا؟


مسعود


logo

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھے ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham Network Community

FREE
VIEW