اسکے اگلے ہی جملے میں درج ہے:

اَلسَّلَامُ عَلَيْنَا وَ عَلٰى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِيْنَ  یعنی سلامتی ہو ہم پر اور تمام صالحین پر!

اب بہت سارے اردو تراجم میں یہاں پر سلام ہو تم پر درج کر دیا گیا ہے۔ سلام، سلامتی اسلام سب ایک ہی حرف سے مشتق ہیں اور وہ ہے سلم یعنی سلامتی جسے ہم انگریزی میں Peace کہتے ہیں!

اب کسی کو آپ السلام علیکم کہو یا سلامتی ہو تم پر بات بالکل ایک ہے! یہی یہاں اس تشہد میں ہے کہ سب سے پہلے نبی پاک ﷺ پر سلامتی بھیجی جائے گی اسکے بعد تمام صالحین اور خود ہم پر بھی! (یا سب سے پہلے نبی پاک ﷺ پر سلام بھیجا جائے گا پھر ہم پر اور صالحین پر)۔

دوبارہ آتے ہیں اس پوسٹ کی جانب۔۔

نماز میں کسی کو سلام کرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے مگر حضورﷺ کو سلام نہ کرنے سے نماز ہوتی ہی نہیں
السلام علیـــک ایھاالنبیﷺ

ناقص علم

درجہ بالا تشہد کو سامنے رکھکر اگر اس پوسٹ کو پرکھا جائے تو یہ سراسر غلط اور باطل نظر آتی ہے!اور ایسی پوسٹ کو پھیلانا جو اسلامی قدروں سے ٹکراتی ہو، اس سے اجتناب انتہائی ضروری ہے! وہ لوگ جو اسلام کی نسبت علم نہیں رکھتے یا جو کسی پوسٹ کو گہرائی میں سمجھ نہیں سکتے، وہ جب ایسی پوسٹ کر پڑھ کر اس پو یقین کر بیٹھیں تو ایمان میں ضعف کا سبب بن جاتا ہے! تشہد میں شفاف نظر آ رہا ہے کہ سلام نبی پاک ﷺ پر بھی بھیجا گیا ہے اور ہم پر بھی اور اصحابِ صالحین پر بھی!

اب آتے ہیں اس پوسٹ کے دوسرے حصے کی جانب جس کا میں نے وعدہ کیا تھا کہ جواب دونگا! یہ صاحب خود کو شبیرحسین دیو کہتے ہیں۔ انکی لمبی سی پوسٹ آپ خود ہی اس فیس بکی پوسٹ میں پڑھ لیں!

دوسری پوسٹ

پہلی بات تو یہ شبیر صاحب کہ میں ان لوگوں میں شامل ہوں جو ملاؤں سے سخت خائف ہیں! میرے نذدیک ملاؤں نے اور خاص کر ہمارے دور کے ملاؤں اور مولویوں نے اسلام کو سمجھا ہی نہیں اور نہ ہی اسکو عوام الناس میں عملاً پھیلانے کی کوشش کی ہے! ہماری مساجد میں قرآن کی تعلیم دی جاتی ہے تو رٹے لگا کر! حافظِ قرآن جو بلاشبہ بہت اعلیٰ مقام ہے وہ تو ہم دھڑا دھڑ بنا رہے مگر حامل قرآن کہیں نہیں پائے جاتے! جتنے ملا اتنی دکانیں! جتنے مولوی اتنی مساجد! ہر کسی نے اپنا اپنا راگ الاپا ہوا ہے! تبلیغیں ہیں تو عمل سے خالی! یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ اور خاص کر برصغیر کے مسلمان طبقات فرقات اور خرافات میں گھرے ہوئے ہیں! ہمارے ہاں عقاعد ہیں اسلام نہیں!

میں نہیں جانتا کہ آپ کی اس مولوی سے کیا آئیں بائیں شائیں ہوئی مگر مجھے آپ کے جواب میں کچھ حاصل نہیں ہوا کہ آپ کا جواب اس پوسٹ سے جو اس بندے نے کی ہے کیا نسبت رکھتی ہے؟؟؟ نبی پاک ﷺ کی ذاتِ اقدس پر درودوسلام بھیجنا ہر مسلمان پر فرض کیا گیا ہے جو کہ قرآن مجید سے ثابت ہے، اللہ تبارک تعلیٰ سورۃ الاحزاب کی آیات نمبر 56 میں فرماتے ہیں:

إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا
اللہ اور اسکے ملائکہ نبی پاک ﷺ پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والوں تم بھی آپ ﷺ پر درودوسلام بھیجو

حاصلِ کلام

۔۔ اور میرا ایمان ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان آپ ﷺ پر دل و جان سے درود بھیجتے ہیں،اب وہ درود دوردِ ابراہیمی ہو یا دوسرا کوئی ایک، جو احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے، پڑھا جا سکتا ہے، احادیث کی کتب سے نماز کے لیے درودِِ ابراہیمی کی فضلیت بیان کی گئی ہے، لہٰذا امت نماز میں اسے پڑھتی ہے اور جسکے بغیر نماز مکمل نہیں ہوتی۔

مگر اسکا اس پوسٹ سے کیا تعلق؟ کیا قرآن مجید میں صلاۃ میں آپ ﷺ کو خاص کر السلام علیک ایھاالنبی پڑھنے کا حکم جاری ہوا؟ کیا کسی بھی مصدق حدیث سے یہ ثابت ہے بجز اسکے جو میں پہلے سے بیان کر چکا ہوں کہ تشہد میں ایسا پڑھا جاتا ہے مگر وہاں پھر ہم پر اور اصحابِ صالحین پر بھی سلامتی بھیجنے کا حکم ہے! میرا استفسار اس پر تھا کہ غلو کرنے سے سخت پرہیز کرنا چاہیے! باتوں کو غلط رنگ دیکر اپنا مفاد حاصل کرنا اور وہ بھی دین کے معاملے میں ایک سنگین مسئلہ ہے! جس بات کا وجود نہیں اسکو پھیلانا – چاہے وہ دین کے ساتھ ہی وابستہ کیوں نہ ہو – درست نہیں!!! چونکہ فیس بک پر سنسر نہیں اور نا ہی کوئی موڈیریٹرایسی باتوں پر توجع دیتا ہے کیونکہ انکی منشا زیادہ سے زیادہ پوسٹس، لائیکس اور کامنٹ ہوتی ہے، وہ غلط علم پھیلانے میں شریک ہیں، یاد رکھیں کہ غلط علم کا بھی حساب ہو گا!

بقلم: مسعودؔ