Current Affairs

First Round: Imran Khan

First Round: Imran Khan

First Round: Imran Khan, Prime Minister Imran Khan, Narendra Modi, Abhinand, OIC, uljhan, #NobelPrizeForImranKhan

پہلا راؤنڈ: عمران خان

میں نے اپنے کل کے بلاگ میں ایک الجھن پیش کی تھی۔

بلاگ پوسٹ کرنے کے بعد کچھ دیر سوچا۔ اسی سوچ پر سویا۔ اور صبح اٹھ کر جب حالات کا جائزہ لیا تو وزیرِ اعظم ImranKhanPTI@ کا فیصلہ بالکل درست لگا۔

ساری دنیا جان چکی ہے کہ ہندوستان نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی جس پر دو مگ 21 فائٹرز مار گرائے گئے۔ ایک کا ملبہ مقبوضہ کشمیر میں گرا جس کی نسبت ہندوستان نے ابھی تک کوئی بھی معلومات کسی بھی میڈیا کو نہیں دی۔

دوسرے مگ کا ملبہ پاکستان میں گرا جس کا پائلٹ پیراشوٹ لگا کر اترا اور پکڑا گیا۔ مقامی لوگ اسکی درگت بنانے میں مصروف تھے کہ پاکستان فوج کے جوانوں نے اسے بچایا اور صفائی ستھرائی کی، چائے شائے پلائی ۔۔۔ First Round: Imran Khan

ہندوستانی ورژن بھی ملاحظہ فرما لیں۔۔۔

میں سمجھتا تھا دنیا میں جاھلیت ختم ہو چکی ہے مگر ایسی ٹویٹس دیکھ کر یقین پکا ہو جاتا ہے کہ ٹویٹر پر آنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کے دماغ سے جاھلیت کا اثر ختم ہو چکا ہے۔

بہرحال ایسے کتوں کی بھونک کی دوا تو حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں تھی۔

سیاسی فتح

آتے ہیں اصل بات کی طرف۔ اصل بات یہ ہے کہ کپتان عمران خان نے اپنے کھیل کے زمانے کی تمامتر خوبیوں کو اب سیاست میں استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ عمران خان کو سیاست نہیں آتی۔ وہ اپنے اپنے ناخداؤں کی بیستی کے بعد اب دنیا کی ایک بہت بڑٰی نام نہاد جمہوریت کے ایک جاھل ترین حکمران کا حال دیکھ لیں۔ سچ یہ ہے کہ عمران خان نے سیاست کے میدان ایک بہت بڑی جنگ جیت لی ہے! ایسی جنگ جو افق پر منڈلا رھی تھی اور جس کو بغیر کوئی بہت بڑا جانی مالی نقصان ہوئے جیت لیا ہے۔ عمران خان نے نہ صرف سیاست کے میدان میں مودی کو شکست دی ہے بلکہ ابھی نند کی واپسی سے خبردار کر دیا ہے کہ ہماری جانب آنکھ سوچ سمجھ کر اٹھانا! ہم اپنا دفاع کرنا جانتے ہیں! یہ 1971 نہیں جب پاکستانی فوج میں غداری تھی۔ یا یہ پچھلی حکومتوں کا دور نہیں جب فوج اور سیاست میں عدم ہم آھنگی تھی – یہ عمران خان کا نیا پاکستان ہے جہاں فوج موجودہ حکومت کیساتھ ملکر کھڑا ہونا اپنا فخر سمجھتی ہے۔

پاکستان کے اس زبردست سیاسی کھیل پر ہندوستان نے اپنی شکست یوں تسلیم کر لی ہے. کہ IAF# کے ائرمارشل سی ہری کمار کو فی الفور برخاست کر کے ائرمارشل راگوناتھ نمبئیر کو اسکی جگہ لگا دیا گیا ہے۔

اور عمران خان کو تو ہندوستانیوں کو ویسے ہی کبھی بھی بھولنا نہیں چاھیے! یہ وہی ہے جس نے سری کانت کو آؤٹ ہونے کے باوجود واپس بلایا تھا! مگر اگلی ہی بال پر آؤٹ کرا دیا تھا!

امن کا سفیر

عمران خان ایک امن پسند انسان ہے۔ مگر جب پاکستان کے خلاف مسلسل جارحیت کی گئی وہ اسکا دفاع کرنا بھی جانتا ہے۔ اور جب آرمی حکومت کے ساتھ کھڑی ہو تو ایسے ملک کا دفاع فولاد کی طرح مضبوط ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ فوج battlefield میں لڑتی ہے تو سیاستدان سیاسی میدان میں جنگ جیتتا ہے – عمران خان نے پہلا مرحلہ جیت لیا ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں عمران خان کی امن کی کوششوں کو سراھا جا رھا ہے کہ ابھی سے 90000 سے زیادہ ووٹ NobelPeacePrizeForImranKhan# پر کاسٹ ہو چکے ہیں۔

اسوقت عمران خان کی حکومت ایک پاوورپلے کی صورتحال میں ہے۔ روئیٹرز کی رپورٹ کی مطابق پاکستان نے اقوامِ متحدہ میں شکایت دائر کی ہے کہ ہندوستان نے پاکستانی علاقے میں eco-terrorism کی ہے۔ ایکوٹیرورزم سے مراد یہ ہے کہ ایک ملک کسی دوسرے ملک میں بغیر جنگ کی حالت کے ماحولیات کو نقصان پہنچائے۔ انٹرنیشنل قانون اسکی نسبت کیا کہتا ہے؟

… destruction of the environment, not justified by military necessity and carried out wantonly, is clearly contrary to existing international law

اگلا حدف

اگلا حدف کیا ہونا چاہیے؟ عنقریب OIC# کے میٹنگ آ رھی ہے۔ بہت سے حلقوں سے پاکستانی حکومت کو اسکے بائیکاٹ کرے کیونکہ اس میں ہندوستانی سشماسوراج کو مدعو کیا گیا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ یہ پاکستان کی حکومت کے لیے فالوآن کرنے کا موقع ہے۔ آپ وہاں جائیں اور اس پیغام کے ساتھ جائیں کہ ہم برصغیر میں امن چاھتے ہیں اور ہندوستانی ونگ کمانڈر کو باوجود اس کہ کے اس نے پاکستانی فضا کی خلاف ورزی کی ہے ہم نے اسے امن کے پیغام کے تحت لوٹا دیا ہے۔ ہم ڈائیلاگ چاہتے ہیں کہ خطے میں امن قائم ہو اب یہ عالمی طاقتوں پر منحصر ہے کہ وہ ہندوستان کو ڈائیلاگ پر لائیں اور مسئلہ کشمیر کو سلجھائیں۔۔۔۔ یہ ہندوستان کے لیے knock-out ثابت ہو گا!! اب حکومتِ پاکستان کو فرنٹ فٹ پر کھیلنا ہو گا اور OICboycott# سے ایک بہت بڑا موقع کھو دیا جائے گا!!!

First Round: Imran Khan

بقلم: مسعودؔ


SC orders 500 Buildings in Karachi to raze

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment