Current Affairs

Haftah Jo Guzar Geya (Week 04/19)

Haftah Jo Guzar Geya (Week 04/19)

Haftah Jo Guzar Geya (Week 04/19)

ہفتہ جو گزر گیا


قطر

قظر کا نام سنتے ہی ہمارے ہاں بہت سارے لوگوں کی باچھیں کھل جاتی ہیں۔   پتہ نہیں کیوں۔

بہرحال میرا مقصد وزیراعظم عمران خان کے قطر کے کامیاب دورے پر بات کرنا تھا۔ حکومت بنانے کے بعد سے عمران خان کی قیادت میں پاکستان نے چند اہم دوست ممالک سے اہم معاہدے کیے ہیں۔ جس سے پاکستان کے سفارتی تعلق بہتری جانب جا رہے ہیں۔  

وزیرِ اعظم کے قطر جانے سے پہلے ساہیوال میں ایک دلخراش واقعہ پیش آیا۔ جو کو سیاست کی بنیاد بنا کر اپوزیشن نے پارلیمنٹ میں خود اودھم مچایا۔  انہوں نے   کہا کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کو فی الفور استعفیٰ دیدینا چاہیے۔ اسی طرح کی بیان بازیاں پیپلزپارٹی نے بھی کیں۔

پولیس

Haftah Jo Guzar Geya (Week 04/19)

شہبازشریف کو یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ ساہیوال کے واقع میں ملوث افراد کا تعلق کس پولیس ہے۔  جس کو شریفیوں نے اور پیپلزپارٹی نے پچھلے چالیس سالوں سے پالا ہے۔ یہ وہ نظام ہے جس کی آبیاری مسلم لیگ اور پی پی پی کی کی ہوئی ہے۔ یہ پولیس کس قدر دہشتگرد ہے اسکا اندازہ ماڈل ٹاؤن کے واقعے سے لگایا جا سکتا ہے۔ اس کا اندازہ عابدباکسر جیسے قاتلوں کو پولیس می بھرتی کرنے سے لگایا جاسکتا ہے۔ اسکا اندازہ راؤ انوار جیسے سور کے بچوں کو پولیس میں بھرتی کرنے سے لگایا جا سکتا ہے۔ اس کا اندازہ ان ہزاروں گلوبٹوں سے لگایا جا سکتا ہے۔ جن کو نون لیگ اور پی پی پی بھرتی کر کے اپنا مفاد حاصل کرتے رہے ہیں۔

استعفیٰ

موصوف نے مزید کہا کہ ماڈل ٹاؤن کے واقعے میں رانا ثنا اللہ نے 48 گھٹنوں کے اندر اندر اپنا استعفیٰ پیش کر دیا تھا۔ تو مجرمِ اعلیٰ تم نے قبول کیوں نہ کیا؟ اور تم نے کیوں نہ کیا؟ اس لیے کہ تم بڑے بدمعاش تھے اور وہ تمہارے ماتحت بدمعاش؟

پنجاب میں جتنے قتل پنجاب حکومت جو نون لیگ کے ماتحت تھی ہوئے ہیں۔ اتنے کبھی نہیں ہوئے۔ نون لیگ بدمعاشوں کی لیگ ہے۔ جس نے ایم کیو ایم کی طرح اور پی پی پی کی طرح سیاست کی دھاک کو قائم رکھنے لیے قتل و غارت کی!

واقعہ ساہیوال کے متعلق موجودہ پنجاب حکومت نے پانچ افسران کو معطل کر کے ان کے خلاف  دہشتگردی کا مقدمہ درج کیا ہے۔ 

اسدعمر کی بجٹ تقریر

پچھلی حکومت کی ناقص پلاننگ اور اووربجٹ کی وجہ سے  موجودہ مالی سال کا بجٹ ڈیفیشٹ   4.1 سے بڑھ کر 7.2 تک چلے جانے کا اندیشہ ہے۔

جسکی وجہ سے منی بجٹ پیش کرنا ضرورت ہے۔ نون لیگ کی حکومت نے  350 بلین روپے کا غلط بجٹ بنایا اور  لگ بھگ 250 بیلین کے اخراجات چھپائے۔

کل ملا کر کوئی 890 بیلین کا خسارا ملکی دولت کو ہوا۔  “مشکل اوقات میں مشکل عمل کرنے پڑتے ہیں” عمر اسد نے کہا۔

منی بجٹ میں جو اہم نکات ہیں ان میں  کسانوں کے لیے یوریا کی مقامی کاشت کے ساتھ ساتھ ایک لاکھ ٹن امپورٹ کیا جا رہا ہے۔ اس پر   7-6 بیلین کی سبسڈی دی جائے گی۔

صحت کے معاملے میں فاٹا اور اسلام آباد  کے علاقوں میں ساڑھے پانچ لاکھ فی فیملی ڈاکٹرز کی فیس ادا کی جائے تاکہ لوگوں کا مفت علاج ہو سکے۔

اسدعمر نے مزید کہا ہے 4.5 بیلین روپے سستے گھروں کی تعمیر کے لیے مختص کیے ہیں۔   Haftah Jo Guzar Geya (Week 04/19)

پنشن

ای او بی آئی پینشن والوں کی پینشن میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔  مزید 100 بیلین کے اضافی چارجز جو پیڑولیم کے مصنوعات پر تھے وہ ختم کر دئے ہیں۔

اسدعمر نے مزید کہا کے پنجاب میں ٹیکسٹائل کے صنعت کے لیے 44 بیلین روپے مختص کیے ہیں۔  اسد عمر نے کہا کہ فیڈریل بورڈ آف ریونیو نے یہ چیلنچ قبول کیا ہے کہ وہ مزید 183 بیلین روپے بہتر نظام لا کر اکھٹے کریں گے۔ نان فائلر پر WHT کی شرح 0،6 تک رکھی گئی ہے اور سگریٹوں پر ٹیکس لگانے کا سوچا جا رہا ہے۔

امیروں پر ٹیکس

امیروں کے لگژری اشیأ پر ٹیکس بڑھایا گیا جیسا کہ 1800 سی سی کی گاڑیوں پر ٹیکس دگنا کیا گیا ہے، مہنگے موبائل پر ٹیکس زیادہ کیا گیا ہے۔ ایک لاکھ سے دو لاکھ تک کی آمدن پر وہی ٹیکس برقرار رکھا گیا ہے جو پہلے تھا، جبکہ اس سے زیادہ کمانے والوں پر ٹیکس کی شرح میں اضافہ کیا گیا ہے۔

اسدعمر نے کہا کہ پچھلے سال 661 بیلین ڈیویلپمنٹ پر صرف کیا گیا جبکہ اس سال 725 بیلین کیا جائے گا۔ اس میں 50 بیلین کراچی پرخرچ کیا جائے گا۔

انفراسٹریکچر پر 100 بیلین اور  پی ایس ڈی پی پر 50 بیلین خرچ کیا جائے گا۔ 

وزیرِخزانہ اسد عمر نے بڑے ترقیاتی پروگرامز کو جاری رکھنے کا عزم کیا۔ جن میں سی پیک  اور ڈیموں کی تعمیر ہے۔ اپنی اس دعا کے ساتھ کہ یہ ملک ہمیں عطائے رب کریم ہے۔ اور اس میں بے شمار پوٹینشل ہے  اور اللہ نے چاہا تو اسے عروج پر لے جائیں گے ،  ان شا اللہ۔

Haftah Jo Guzar Geya (Week 04/19)

 

current affairs
Haftah Jo Guzar Geya (Week 04/19)

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment