Islam

Islam: 786 Likhney ki Haqeeqat

786 - bismillah?
786 - bismillah?

۷۸۶ لکھنے کی حقیقت

سوال:

خط یا کسی تحریر کے شروع میں ہمیں سکولوں میں یا ماں باپ نے ۷۸۶ لکھنا سکھایا تھا کہ اس کی طاقت کلمہ طیبہ کے برابر ہے لیکن ایک مولوی صاحب نے اِسے غلط کہہ کر اپی طرف سے ۷۸۶ / ۹۲ کی تعلیم جاری کی ہے۔ اِس پر روشنی ڈالی جائے:

جواب:

کسی بھی تحریر کے شروع پر بسم اللہ لکھنا سنتِ نبویؐ ہے اور مسلمانوں کو جس طرح کھانے پینے اور دوسرے کاموں کے آداب سکھائے گئے ہیں اِسی طرح تحریر کے جو آداب ہیں اِن میں بسم اللہ بھی شامل ہے۔ لیکن برصغیر کے بعض علاقوں میں خط شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ کی جگہ ۷۸۶ لکھنے کا رواج ہے جس کی وجہ سمجھ میں نہیں آتی کیونکہ اِ س کے لیے کوئی شرعی دلیل نہیں ہے لہذا ۷۸۶ یا ۷۸۶/۹۲ دونوں کا بسم اللہ کی جگہ لکھنا بے فائدہ اور خلافِ سنت ہے۔اصل طریقہ یہی ہے کہ تحریر کا آغاز بسم اللہ سے کیا جائے۔ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ لوگ خطوط کی حفاظت نہیں کرتے لہذا اللہ کے نام کی بے حرمتی سے بچنے کے لیے بسم اللہ کے متبادل ۷۸۶ لکھا جاتا ہے یہ دلیل کئی لحاظ سے غلط ہے۔

اول: اس لیے کہ ۷۸۶ کسی طرح بسم اللہ کا متبادل نہیں، یہ مفروضہ ہی سرے سے غلط ہے کہ کوئی لفظ یا عدد بسم اللہ کا متبادل ہو سکتا ہے کیونکہ سلف صالحین سے کسی ایسی چیز کا ثبوت نہیں ملتا کہ اگر بسم اللہ کے عدد نکال کر انہیں لکھنے پڑھنے میں استعمال کر لیا جائے تو اِس سے بسم اللہ کا مفہوم ادا ہوجائے گا یا مقصود پورا ہواجائے گا۔

دوم: جہاں تک اِس دلیل کا تعلق ہے کہ لفظ اللہ کی بے حرمتی کا خطرہ ہوتا ہے اس لئے ۷۸۶لکھا ہے تو اِس کا مطلب یہ ہوا کہ پھر اللہ یا محمدؐ کا لفظ کہیں بھی خط میں تحریر کے اندر استعمال نہیں کرنا چاہیے جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ انہی خطوط کے اندر جنہیں لوگ ۷۸۶ سے شروع کرتے ہیں ان میں اللہ تعالیٰ کے کئی بار نام لکھتے ہیں وہاں کوئی بھی ملحوظ نہیں رکھتا کہ لفظ جلالہ کی توہین ہو جائے گی۔
سوم: رسول اللہﷺ نے جو غیر مسلموں کو خطوط لکھے اُن کو بسم اللہ اور رسول اللہ کے الفاظ سے شروع کیا حالانکہ غیر مسلموں سے تو اُن خطوط کی عزت کی توقع ہی نہ تھی لیکن پھر بھی اپؐ نے بے حرمتی کے ڈر سے بسم اللہ اور لفظ اللہ ترک کر کے اُن کی جگہ اِن الفاظ کے اعداد نہیں لکھے تھے۔
اِن دلائل کے روشنی میں مسئلہ پوری طرح واضح ہو گیا ہے کہ شرعی طور پر بسم اللہ کی جگہ ۷۸۶ کی گنجائش نہیں اور نہ ہی ۷۸۶/۹۲ لکھنے کی۔بلکہ پوری بسم اللہ لکھنی چاہیے!
ماخوذ: فتاویٰ صراطِ مستقیم

Shab-o-roz

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment