Meri Shairi Shab-o-Roz

Meri Shaairi: Yaar Key Mah’kadey Sey

Meri Shaairi: Yaar Key Mah'kadey Sey
Jaam Poetry

Meri Shaairi: Yaar Key Mah’kadey Sey

.جام

یار کے میکدے سے جام بھی نہ مل سکا
صبح بھی نہ مل سکا وہ سرِشام بھی نہ مل سکا

ہم تو بڑے شوق سے گئے تھے اسکے میخانے
وہ بھی نہ ملا ہمیں اس کا نام بھی نہ مل سکا

اس کی یاد میں تو کیوں روتا ہے اے دل؟
اچھا تو کیا تمہیں وہ بدنام بھی نہ مل سکا

یوں تو سمجھتے ہیں سب خود کو حسیں زمانے میں
پکارا جب پیار سے تو کوئی گلفام بھی نہ مل سکا

اپنی بیرنگ قسمت پہ ہم خود ہی ماتم کریں گے
ہمیں اپنی اچھی تقدیر کا پیام بھی نہ مل سکا

میں نے کیں تھی بہت فریادیں خدا سے
چاہا جو میں نے‘ وہ پیغام بھی نہ مل سکا

ستمِ دنیا پہ مسعوؔ د نے مر جانا چاہا لیکن
تلاش جو کیا تھا وہ دام بھی نہ مل سکا

مسعودؔ

Meri Shaairi: Yaar Key Mah’kadey Sey

Shab-o-roz

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

November 2018
MTWTFSS
 1234
567891011
12131415161718
19202122232425
2627282930 

PG Special