Current Affairs Politics

Senate Election 2021

Senate Election 2021

کچھ عرصہ پہلے سینٹ کے انتخابات ہوئے۔ ایک اہم پوسٹ کے لیے حکومتی نمائندے حفیظ شیخ اور مخالف گروپ پی ڈی ایم کے نمائندے سیدیوسف رضا گیلانی کے درمیان تھا۔

Senate Election 2021 Senate Election 2021 Senate Election 2021 Senate Election 2021 Senate Election 2021 Senate Election 2021 Senate Election 2021 Senate Election 2021

انتخابات سے پہلے یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی حیدر گیلانی کی ایک ویڈیو سرِ عام آئی جس میں وہ پی ٹی آئی کے کئی ایک ارکان کولاکھوں  روپے کی رشوت دیتا ہوا نظر آیا اور ساتھ ہی ان ممبران کو اپنا ووٹ ضائع کرنے کا طریقہ بتا رہا تھا۔ یہ ویڈیو کسی بھی جمہوری ملک میں ایک شدید قسم کا جرم کا اعتراف ہے اور اسکی شدید ترین سزا  کے ساتھ ساتھ انکے امیدوار کو ڈسکوالیفائی کرنے کے لیے کافی ہے۔ مگر یہ پاکستان ہے اور ادھر کا الیکشن کمیشن خود ایسی کرپشن کو تقویت پہنچاتا ہے ۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ الیکشن کمیشن کی سرپرستی میں 2013 کے انتخابات میں دل کھول کر دھاندلی کر کے نوازشریف کو کامیاب کرایا گیا!

[embedyt] https://www.youtube.com/watch?v=zGlAbk867uI[/embedyt]

یونہی ہوا کہ پی ٹی آئی کے کئی ایک ارکان نے اپنے امیدوارکوووٹ دینے کی بجائے اپنا ووٹ ضائع کردیا۔ ایک عجیب سی با ت ہے کہ سیاست سے وابستہ اور اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے افراد اپنا ووٹ ضائع کر کے کہتے ہیں ‘ہمیں علم نہیں تھا کہ ووٹ کیسے ڈالنا ہے’۔

بہرکیف  حفیظ شیخ ہار گئے اور یوسف رضا گیلانی جیت گئے! سرِعام کرپشن اور جھوٹ کی جیت! پاکستانی نظام کے منہ پر جوتی مارنا اس خاندان کے لیے کوئی نئی بات نہیں۔ اس سے پہلے خود یوسف رضا گیلانی جب وزیراعظم تھا تو خاتونِ اول ترکی نے ایک بیش قیمت ہار کسی فلاحی کام کے لیے دیا جس کو یوسف رضاگیلانی نے چوری کر کے اپنے بیوی کو پہنا دیا۔ اسی طرح اسکے دوسرے بیٹے نے ایک بے گناہ نوجوان کو قتل کر کے اپنے ایک نوکر کے نام قتل لگا دیا۔

بظاہر تو اس شکست کا خاص اثر وزیرِ اعظم عمران خان پر ہوا جس نے اس انتخابات کے بعد عوام سے دھواں دھار خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اگر اپنی حکومت کی کرسی چھوڑنی پڑی تو چھوڑ دونگا مگر میں اس ملک میں کرپٹ عناصر کو نہیں چھوڑوں گا! اس کے بعد خان نے اسمبلی نے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ کیا تاکہ ان عناصر کو بے نقاب کیا جاسکے جنہوں نے اپنے ووٹ ضائع کیے۔ اپوزیشن نے حسبِ عادت بائیکاٹ کیا لیکن 178 ووٹوں کے ساتھ عمران خان پر اعتماد برقرار رھا!

اس الیکشن کے چند دن بعد باری تھی سینٹ کے چیئرمین کے الیکشن کی! اب کی باری امیدوار پی ڈی ایم کے نومنتخب یوسف رضا گیلانی  اور حکومتی امیدوار صادق سنجرانی! صادق سنجرانی قائمقام چیئرمین بھی تھا۔ اس الیکشن سے پہلے عمران خان  خاص کر اس بات کے حق میں تھا کہ الیکشن اوپن بیلٹ سے ہونے چاہیے یعنی ہرووٹر کا ووٹ معلوم ہونا چاہیے کہ کس کو کاسٹ کیا جا رہاہے۔ اس کے لیے عمران خان کی حکومت نے عدالتِ عظمیٰ سے بھی رابطہ کیا۔ مگر عدالت نے فیصلہ سنایا کہ کہ سینٹ کے انتخابات آئین کی شک نمبر          کے مطابق ہونگے اور اس سے انحراف نہیں کیا جاسکتا!

ہمارا آئین اس لیے مرتب کیاگیا ہے کہ وہ کرپٹ لوگوں کو تقویت دے۔ آئین کہتا ہے کہ  ہر انتخاب کے لیے خفیہ ووٹنگ برقرار رکھی جائے گی۔ البتہ الیکشن کمیشن کی ذمے داری ہے کہ ہر ممکن طور پر انتخابات میں شفافیت قائم کی جائے  جس میں قانونی، انصافی اور حق داری کیساتھ ساتھ کرپٹ عناصر سے بچایا جائے! 

اب پاکستانی معاشرے میں آئین کے اس حصے کو کہ “خفیہ رکھا جائے” اپنا لیا گیا ہے جبکہ اسکی پردہ داری میں ہر طرح کی قانون، انصاف اور حقداری کی دھجیاں بکھیردی جائیں، جیسا کہ یوسف رضا گیلانی کے بیٹے نے اپنے باپ کو جتانے کیلیے سرِ عام رشوتیں دیکر کیا۔قیامت یہ کہ اس پر الیکشن کمیشن کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی!

عدالت کا یہ فیصلہ عمران خان کی حکومت کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا کیونکہ خان صاحب اس ملک میں شفافیت کو عام کرنا چاہتے ہیں جبکہ ان کے بعد شاید ہی کوئی دوسرا ہو جو انتخابات میں شفافیت کے حق میں ہو۔ پسِ پردہ تمامترکرپشن اور دھاندلی اس ملک میں جیت کی صورت میں جائز اور ہار کی صورت میں غلط ثابت ہو جاتی ہے!

بہرصورت چئیرمین کے اس انتخابات میں وہی کچھ ہو جو چند ہی روز پہلے ہوا تھا یعنی اب کے بار اپوزیشن کے 7 ارکان نے اپنے ووٹ ضائع کردئیے اور اس طرح صادق سنجرانی دوبارہ سینت کا چئیرمین منتخب ہو گیا! – یہ شکست اپوزیشن کے لیے زہرِمہلک ثابت ہوئی اور اس کو ماننے سے انکار کردیا! یعنی وہی بات جو میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ جب جیت گئے سب واہ واہ ہارے تو مانوں گا نہیں!

اس شکست سے پی ڈی ایم جو پہلے ھی ایک ڈوبی ہوئی کشتی تھی اب مزید کمزور اور کھوکھلی ہوگئی!  چند دن بعد پی ڈی ایم نے ایک بہت اہم جلسہ منقعد کیا جس میں لندن مفرور نوازشریف سمیت زرداری اورفضل الرحمن سمیت پی ڈی ایم کے دوسرے ارکان موجود تھے۔ اس جلسہ کا مقصد 26 مارچ کو طے شدہ لانگ مارچ کی تیاری اور اسکی تنظیم سازی تھی۔ لانگ مارچ کی ایک اہم شرط یہ تھی کہ پی ڈی ایم میں موجود تمام ارکانِ اسمبلی اپنے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

پیپلزپارٹی کےشاطر چئیرمین آصف علی زرداری کو شاید ایسی موقع کا انتظار تھا! اس نے نوازشریف سے بات کرتے ہوئے شرط رکھدی کہ اسمبلیوں سے استعفیٰ کیلیے ضروری ہے کہ نوازشریف جو لندن کی پرسکون فضا میں سکون کی زندگی گزار رھا ہے ، پاکستان ساتھ آکر پی ڈی ایم کیساتھ کندھے سے کندھا ملا کر لانگ مارچ کریں – نوازشریف آئے ہم استعفیٰ دینے کو تیار ہیں! خبر ہے کہ اس موقع پر مریم صفدر اور زرداری کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور نوازشریف نے مریم کو ڈانٹ دیا!

اس ملاقات کے بعد ایک انتہائی مختصر سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی ڈی ایم کے چئیرمین فضل الرحمٰن نے صرف اتنا کہا کہ 26 مارچ کا جلسہ ملتوی سمجھا جائے! اسکے بعد وہ اپنے اتحادیوں پر سے پیٹھ کر کے بھاگ کھڑا ہوا!

آصف علی زرداری نے ایک انتہائی اہم معوقع پر ایک شاطر چال چلی! وہ جانتا تھا کہ نوازشریف فی الحال پاکستان نہیں آئے گا۔ نہ ہی زرداری اس بات کے حق میں ہے کہ اسمبلیوں سے استعفیٰ دیا جائے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ اسکی سیاسی موت ہوگی! حکومت ایسی صورت میں ضمنی انتخابات کرا کے مزید مضبوط تر ہو گئی تو اس کرپٹ سیاسی نظام کر صفایا ہو جائے گا جو ان کرپٹ پارٹیوں نے قائم کر رکھا ہے! سب جانتے ہیں کہ عمران خان کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ پارلیمنٹ میں مکمل اکثریت کا نہ ہونا ہے، استعفوں کی صورت میں ضمنی انتخاب ہونگے جس میں پی ٹی آئی کے سوا شاید ہی کوئی دوسری پارٹی کامیاب ہو!

لہذا اس وقت صورتحال یہ ہے کہ حکومت پراعتمادی سے آگے بڑھتی جارہی ہے جبکہ اپوزیشن ایکبار پھر سے آپس میں توں توں میں میں پر اتر آئی ہے! ابھی کہتے ہیں کہ عمران خان کو سیاست نہیں آتی!  Senate Election 2021 Senate Election 2021 Senate Election 2021 Senate Election 2021


بقلم: مسعودؔ


 

SC orders 500 Buildings in Karachi to raze

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھے ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham Network Community

FREE
VIEW