Current Affairs Politics

The Hypocrite Politicians of Pakistan

عزیز ہموطنوں!

اس بلاگ کے لکھتے وقت پاکستان کے شہرگجرانوالہ  میں گیارہ جماعتوں کی اپوزیشن کا اجلاس ہو رہا ہے جس کا ذکر میں نے اپنے کل کے بلاگ میں کیا تھا۔

یہ وہ گیارہ جماعتیں ہیں جن کی اکثریت پچھلے کم و بیش چالیس پنتالیس سالوں سے اس ملک کے سیاہ وسپید میں شامل رہی ہیں۔ ان جماعتوں نے غدار بھی پیدا کیے ہیں، قاتل اور دھشتگرد بھی پیدا کیے ہیں ، افغانیوں کیساتھ ملکر ہندوستانی دولت پر ملک میں بدامنی  بھی پیدا کی ہے، اور کبھی کرپشن کرنے کے لیے اسمگلر بھی پیدا کیے ہیں اور عوام پرغنڈہ گردی اور تشدد کرنے کے لیے بدمعاش بھی پیدا کیے ہیں، ملک میں بدامنی پیدا کرنے کے لیے چھوٹوگروپ کی سرابراہی بھی کی ہے اور عربیوں کی ہوس کو پورا کرنے کے لیے رحیم یار خان اور مری کے ہوٹل بھی سجائے ہیں:

 کون ہے جو عامر باکسرکو نہیں جانتا؟ کون ہے جو راؤ انوار کو نہیں جانتا؟ کون ہے ایان علی کی زرداری کے لیے دولت کی اسمگلنگ سے واقف نہیں؟ کون ہے جو لاہوریوں کے گلوبٹوں کو نہیں جانتا؟  

یہ وہ گیارہ جماعتیں ہیں جو 2018 کے الیکشن سے پہلے ایک دوسرے کی شدید ترین مخالف اور دشمن تھیں:

کون ہے جو نوازشریف کی غلیظ سیاست سے واقف نہیں جب اسنے بینظیر کی ایڈیٹ شدی ننگی تصاویر بنوا کر ملک کے کونے کونے میں بانٹی تھیں! کون ہے جو 1996 کا وہ انصاف سوز، ملک دشمن واقعہ بھول گیا ہے جب اسی نوازشریف نے اپنے خلاف پی پی پی کی جانب سے دائر کیے ہوئے ایک کیس سے بچنے کے لیے پاکستان کے سب سے مقدس ادارے سپریم کورٹ پر حملہ کر کے ہر طرح کے قانون کی دھجیاں بکھیر دیں!!!

اگر انصاف ہوتا تو نوازشریف اسی دن ہی اور اسوقت ہی کالعدم قرار دیدیا جاتا – کم از کم یورپ کی جمہوریت میں ایسا ہی ہو کہ اسکی سیاست کا قصہ تمام ہو جاتا! مگر اسوقت بھی نوازشریف نے اپنی حرام کی کمائی کو خوب حرکت دی اور لوگوں کے ضمیروں کو اور میڈیا کے ضمیروں کو بری طرح خرید کر خود کو معتبر بنوا لیا!

جب ہمارے ملک میں یہی نام نہاد سیاست جو بار بار باریاں لینے کے باوجود ناکام ترین ثابت ہوئے ہیں تو کیا وجہ ہے وہ آج سیاست کر رہے ہیں اور آج بھی جلسے جلوس کر رہے ہیں؟

وجہ ایک ہے  کہ پاکستانی عوام میں اکثریت ایسے افراد پر مبنی ہے جو غربت کی حد سے بھی نیچے ہے۔ ایسے لوگوں کو دال روٹی سے سوا کوئی اور کسی بات سے سروکار نہیں! یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں حبِ وطنی فقط نعرہ بازی تک محدود ہے اور جیسے ہی لکشمی کی جھلک پڑتی ہے پاکستان عوام کو ضمیر تو کیا دین تک بیچتے دیکھا گیا ہے۔

ان لوگوں کو رتی برابر فکر نہیں کہ کون حکومت میں ہے اور کون نہیں، انہیں صرف دال روٹی کے بھاؤ سے فکر ہے!

اور دال روٹی کا بھاؤ موجودہ حکومت کے دور میں شدید حد تک بڑھ چکا ہے! مگر اسکی وجہ موجودہ حکومت کی ناکام پالیسیاں ہرگز نہیں!

پاکستان کے نظام کو سمجھنے کے لیے یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اس ملک کو جان بوجھ کر تعلیم سے دور رکھا گیا ہے! جب عوام تعلیم سے دور ہو گی تو شعور سے بے بہرہ رہے گی! شعور نہیں ہوگا تو اسکی دوڑ پیٹ کی آگ بجھانے تک محدود رہے گی! ایسی قوم کو بیوقوف بنانا، انکے جذبات سے کھیلنا، انکواکسانا اور انکے طیش میں لانا آسان ہوتا ہے۔

یہی وہ سیاست ہے جو مذکورہ بالا سیاسی جماعتوں نے پاکستان میں روا رکھی ہے! ان کرپٹ ترین جماعتوں نے اس لاشعور قوم کے سروں پر کچھ ناسور بٹھا دیا ہیں جو ان سے دولت کی فراوانی لیکر عوام کو جاہلیت کی حدوں میں رکھتے ہیں۔ اور جب ایسی قوم – جو خود سے سوچنے سمجھنے کے قابل نہیں ہوتی – وہ انہی لوگوں کو جو پیسہ دیکر ضمیر خریدتے ہیں اپنا لیڈر بنا لیتی ہے!

یہی پاکستان تاحال ہوا ہے!   شریفیوں اور زرداریوں نے اپنے میثاقِ جمہوریت کی بنیاد ہی اسی سیاست میں رکھی ہے۔

اس کے بعد ایک دوسرا طبقہ ہے جس نے اس ملک کی  رگوں میں بدترین زہر گھولا ہے: میڈیا!

اس میں رتی برابر شک کی بنیاد نہیں کہ پاکستانی میڈیا ہاؤسز انہی کرپٹ سیاستدانوں کی حرام کی دولت پر پرورش پاتے رہے ہیں اور پا رہے ہیں۔ حقائق بتا رہے ہیں کہ پچھلی حکومتوں نے اپنی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے ان میڈیا ہاؤسز پر کھربوں روپیہ صرف کیا ہے۔ چونکہ موجودہ حکومت نے اس حرام کے پیسے کو روکدیا ہے تو ایک ظاہری سے کیفیت پیدا ہو گئی ہے کہ میڈیا بھی موجودہ حکومت کے خلاف ہے!

آج کے جلسے کے مطلق چند نامور اور مشہور ترین “صحافیوں” کا تبصرہ ملاحظہ کیجیے:

یہ تبصرہ ہے ایک ایسے مبصر کا جس کو دس لاکھ سے زیادہ افراد فالو کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسا مبصر ہے جس نے کئی دہائیوں سے صحافت کی ہے! جس نے انگنت جلسے جلوس دیکھے ہیں۔ اس کی عقل اس وقت اس قدر ماؤف ہو چکی ہے کہ اس کے لیے اسوقت کا انتظار انتہائی شدت ترین ہے کہ کب ملک میں فسادات ہوں اور حالات خراب ہوں۔  حامد میر صاحب پہلے کبھی کسی جلسے جلوس نے کسی حکومت کو نقصان پہنچایا ہے؟ اور چلیں آپ کی بات مان بھی لی جائے کہ یہ پچاس ساٹھ ہزار افراد ہیں، چلیں پانچ چھ لاکھ بھی کر لیں تو کیا کوئی ایسی وجہ پیدا کی جاسکتی ہے کہ ایک منتخب حکومت جسکو ایک کڑوڑ ساٹھ لاکھ افراد نے چنا ہو اسکے خلاف کاوارئی کی جا سکے؟ کاروائی کی وجہ بھی ہوتی کوئی ایسا قانونی جواز بتا دیں اپنے فالوورز کو یہ یہ قانونی جواز ہے! اگر نہیں تو اپنی غلیظ اور بدبودار ترین ذہنیت کو کسی درست سمت لگائیں۔

یہ تبصرہ اس خاتون صحافی کا ہے جس کے پروگرام میں مریم نوازشریف نے کہا تھا کہ میری تو لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی جائداد نہیں۔۔۔ اگر اس خاتون صحافی میں تھوک برابر غیرت ہوتی اور یہ صحافت کے قاعدے پورے کرتی تو مریم نواز سے سوال کرتی کہ بی بی تم تو کچھ اور کہتی تھی اب یہ اتنی ساری جائداد اور دولت کہاں سے نکل آئی؟؟ مگر بات وہی ہے کہ ہمارے صحافی ان کرپٹ سیاستدانوں کی گندی نالیوں کے کیڑے ہیں جنکے گھروں کا خرچہ پانی اس سے چلتا ہے کہ یہ ان کی تعریفیں کریں! اس امیج میں ایک اور خاتون صحافی نظر آرہی ہے۔ یہ وہ خاتون ہیں جنکا قلم عوامی خرچے پر نوازشریف کیساتھ ہوائی جہازوں میں سفر کرتے لکھتا رہا ہے!

پاکستانی صحافت ایک انتہائی غلیظ اور گندی دنیا ہے! کل تک جن کو یہ صحافی کرپٹ کہہ کر پکار رہے تھے آج کل انہی کو اپنے پروگرامز میں بلا کر ماہرانہ تبصرہ لے رہے ہوتے ہیں۔ ہمارے میڈیا ہاؤسز جانتے ہیں کہ حکومتیں بدلتی رہیں گی مگر ہمیں یہی رہنا ہے اور اگر ہم مجروموں کو ہیرو بنا کر پیش نہ کریں تو کل کو ہماری اسپانسرشپ ختم ہو سکتی ہے! یہ درحقیقت صحافیت کی طوائفیں ہیں جو خود بھی حرام کھاتے ہیں اور عوام کے ذہنوں کو بھی مکروہ بناتے ہیں!


بقلم: مسعود

SC orders 500 Buildings in Karachi to raze

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.