Current Affairs Politics

#ChalChaloGujranwalaChalo

#ChalChaloGujranwalaChalo
پاکستان مسلم لیگ کل یعنی 16 اکتوبر 2020 کو گوجرانوالہ میں ایک جلسہ کرنے جا رہی ہے۔
جلسے کا مقصد “پاکستان اور پاکستانی عوام کو ایک عوام دشمن حکومت سے نجات دلانا ہے” – ہنسئیے مت اور آگے پڑھئیے!
نون لیگ اور انکے حامیوں کا جن میں پاکستان پیپلزپارٹی اور  فضل الرحمن خاص طور پر قابلِ ذکر ہے کا موقف ہے کہ مہنگائی سرچڑھ کر بول رہی ہے اور اس لیے حکومت ناکام ہو چکی ہے۔ پاکستان کو نوازشریف جیسا مضبوط اور پائدار وزیراعظم چاہیے جو ان مشکلات سے ملک کو نکال سکے۔۔۔۔۔ (پھر سے ہنسئے مت آگے پڑھیے)۔
ملافضل الرحمن کا اول تو کوئی موقف ہے ہی نہیں اور اگر ہے تویہ کہ ملک میں شریعت نافذ نہیں اور نہ ہی موجودہ حکومت اس ملک کو ریاستِ مدینہ بنانے میں کامیاب ہو سکی ہے۔۔۔۔ (کہا نا ہنسئے مت اور آگے پڑھئے)
نون لیگ کے ایک بہت بڑے حامی پاکستان پیپلزپارٹی بھی ملک کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر پریشان ہے اور سمجھتی ہے کہ اس کا حل صرف اور صرف پی پی پی کے پاس ہے۔۔۔ (صاحب آپ ہنسنے سے باز نہیں آئینکے)

ابھی دو سال ہی ہوئے ہیں کہ پاکستان میں انتخابات کا زور شور تھا۔ ان دنوں نون لیگ اور انکے رہنما پیپلزپارٹی اور پیپلزپارٹی نون لیگ کو سرتاپا ننگا کیا کرتے تھے اور انکو برے درجے کا کرپٹ، نااہل اور ملک دشمن قرار دینے میں کسر نہیں اٹھا رکھتے تھے۔ یہاں تک کہ اس صدی کی سب سے جھوٹی عورت مریم نوازشریف اپنے خطبوں میں لوگوں کا اکسایا کرتی تھی کہ جو ووٹ عمران کو دیا جائے گا وہ دراصل زرداری کو جائے کیوںکہ زردار عمران بھائی بھائی ہیں۔

فضل الرحمں کو ان اتخابات میں بدترین شکست ہوئی! ساتھ سی پی پی پی اور نون لیگ کو بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ جب  فضل الرحمن نے دیکھا کہ وہ پارلیمنٹ سے بھی باہر ہو گیا ہے اور اسکے اپنے لگژری ویلا اور عیش و عشرت چھوڑنی پڑ رہی ہے تو اسنے بدترین سازشورں کے جال بننا شروع کر دیئے۔

کبھی وہ اپنے بیٹے کو اسمبلی میں اسپیکر لگوانے کے لیے بھاگ دوڑ کر رہا تھا اور جب ہر مقام پر شکست ہوئی تو اس نے اپنے بیٹے اور دوسرے ارکان جو اسکی جماعت کی پارلیمنٹ میں تھے ان کو سازشوں پر لگا دیا۔ کبھی وہ پارلیمںٹ کے ڈسک کے سامنے نماز شروع کر دیتے، کبھی موٹرویز کو جام کر کے نماز شروع کر دیتے، کبھی اسمبلیوں میں اودھم مچا کر کاروارئی کو روک دیتے۔

باہر فضل الرحمن نے اپوزیشن کیساتھ اور کو ساتھ ملا کر ملک گیر ہنگامے اور پرتشدد کاروائی کرنے کو کہا – مگر اس میں بھی ناکامی ہوئی۔

الغرض وہ کونسا حربہ ہے جو فضل الرحمن نہیں استعمال نہ کیا ہو؟ کبھی اپنی “فوجیں” تیار کر رھا تھا کہ ہم “جہاد” کریں گے۔ انسان پوچھے کہ اس نے اپنی ساری زندگی میں کوئی ایک عمل ایسا کیا ہو جس اسلام اور پاکستان کے حق میں ہو، کوئی ایک؟

کبھی یہ عورتوں کی حکومتوں کیخلاف فتوے دے رھا تھا اور انہیں عورتوں کے قدموں میں جا بیٹھا، کبھی امریکی سینیٹر این پیٹرسن کی قدم بوسیاں کی کہ مجھے وزرات دلوا دو اور دس سال کشمیر کمیٹی سے حرام کھا کر اب ایک اور عورت کے قدموں میں جا پڑا ہے۔

نوازشریف جو جیل میں تھا اپنی جھوٹی اور من گھڑت بیماری کا بہانہ بنا کر چھ ہفتے کی چھٹی لیکر ججز اور اعلیٰ حکام کے ضمیر خریدنے کا عمل شروع کر دیا۔ مگر جب اس میں بھی انکی دال نہ گلی تو نوازشریف نے اپنے نام نہاد ڈاکٹر سے جعلی رپورٹٰیں بنوا کر عدالت سے چھ ماہ کی رخصت لیکر لندن بھاگ گیا – اب کوئی ڈیڑھ سال ہونے کو ہے وہ لندن سے واپس نہیں گیا۔

اس دوران عدالت نے اسے پاکستان کا اشتہاری قرار دیدیا ہے۔ لندن میں رہتے ہوئے نوازشریف نے اپنا ایلچی آرمی چیف کے پاس بھیجا کہ ہم پر رحم کیا جائے اور ہماری مدد کی جائے۔ حالات بتاتے ہیں کہ آرمی نے مکمل طور پر سیاست سے دور رہنے کا فیصلہ کرتے ہوئے یہ اپیل مسترد کر دی ہے۔ ادھر نوازشریف کے بھائی شہبازشریف کو نیب نے جیل میں ڈال دیا ہے۔

اب نون لیگ کے پاس کیا بچا ہے؟

نون لیگ اب ایک ایسی صورتحال سے دوچار ہے جس میں کبھی ایم کیو ایم تھی: مرکزی لیڈر ملک سے بھاگا ہوا ہے اور باہر بیٹھ کر بیرونی سازشوں پر وہ اپنی عوام کو طیش دلا رھا ہے۔ جب کہ مریم نوازشریف نے اپنی ساری توجہ اپنے چچا کیساتھ انٹر-پارٹی لڑائی کے بعد ایک خطرناک عمل پر مرکوز کر دی ہے۔

اس میں تو کسی قسم کا کوئی مغالطہ نہیں ہے کہ نون لیگ، پی پی پی اور فضل الرحمن کے پاس اس وقت اپنی کرپشن اپنے جرائم اور اپنی ناکامیوں سے بچننے کا کوئی طریقہ نہیں رھا۔  کسی بھی جرم پیشہ سیاسی لیڈر چاہے وہ نوازشریف ہو، زرداری ہو، ملا فضل ہو یا کوئی بھی انکا ہمدرد انکے پاس اپنے جرام کا دفاع کرنے کے لیے عدالت میں کوئی ایسا ثبوت نہیں جسے پیش کر سکیں۔ عدالتوں میں ناکامی کے بعد انکے پاس ایک ہی حربہ باقی ہے۔

 لہذا انکی کوشش ہے کہ ملک میں شدید قسم کی افراتفری پھیلائی جائے، حالات کو شدید خراب کیا جائے اور اسکے لیے اگر دھشتگردی کا سہارا لینا پڑے تو اس سے بھی دریغ نہ کیا جائے۔

اسکے لیے نوازشریف لندن سے بیٹھ کر وہی کردار ادا کریگا جو الطاف حسین نے کراچی کو تباہ کرنے لیے کیا تھا۔ ادھر پی پی پی نے ہندوستانی پشت پناہی پر ایک لابی تیار کی ہے جو ملک میں صوبائی نفرت کے زہر کو پھیلارہی ہے۔ اسکے لیے انہیں نے اعلیٰ قسم کے صحافیوں اور قلمکاروں کو بھی تیار کیا ہے جو دن رات سوشل میڈیا پر بیٹھ کر ملک میں صوبائی تعصب، نفرتوں کے جال اور افراتفری کی دعوت پھیلانے میں مصروف ہیں۔

اس ضمن میں پاکستان کے بڑے بڑے میڈیا ہاؤس بھی پیش پیش ہیں۔

ایک بہت بڑی تعداد میں وہ صحافی جنکے لفافوں کا حجم کبھی اچھا خاصا تگڑا ہوا کرتا تھا، جو کبھی عوامی پیسہ پر ہوائی جہازوں میں مفت سفر کیا کرتے تھے اور اسکے عوض نوازشریف کے وضو کے حال کا تذکرہ لکھا کرتے تھے آج کل وہ خاصے مشکل حالات سے گزر رہے ہیں، وہ بھی پیش پیش ہیں۔ ان کے ٹویٹس انکی مفافقت کی بولی بولتے ہیں۔

میں نے بہت عرصہ پہلے اپنے ایک بلاگ میں لکھا تھا کہ نوازشریف کے لیے پنجاب بہت بڑی جاگیر ہے! اسکو پنجاب کے سوا کچھ نہیں چاہیے۔ اسی طرح زرداریوں اور بھٹوؤں کے لیے سندھ بہت بڑی جاگیر ہے! آج کے حالات بتا رہے ہیں کہ میری وہ بات درست تھی!

دونوں جماعتیں پاکستان میں بدامنی اور بدحالی، افراتفری اور دھشتگردی کی انتہا تک جا سکتی ہیں کیونکہ جن کے پاس عدالتوں میں اپنے جرائم کا دفاع کرنے کا کوئی چارہ نہ رہے وہ بالاخر اپنی کرپشن بچانے کے لیے ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی انتہا تک جا سکتے ہیں – کل کا جلسہ اسی سلسلے کی پہلی کڑی ہے!   عمران خان کی بات سوفیصد درست ثابت ہوتی ہے کہ جب ان کرپٹ لوگوں پر ہاتھ پڑے گا تو یہ ایک ہو جائیں گے کیونکہ انکی کرپشن ایک جیسی ہے انکے مفادات ایک جیسے ہیں!

ورنہ ساری امت جانتی ہے کہ آج کے حالات پہلے بھی تھے۔ ساری امت جانتی ہے پچھلے دور کسی بھی طرح آج سے اچھے نہیں تھے۔ اور وہ لوگ جو پچھلے 40 سالوں سے ناکام چلے آ رہے ہیں، وہ جنہوں نے اپنی اولادوں کو بینامی اور حرام کی دولت پر پالا ہے وہ اس قوم کے دکھ درد کو محسوس کریں گے؟؟؟؟؟؟


بقلم: مسعود

SC orders 500 Buildings in Karachi to raze

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.