Current Affairs

Bilawal Visits Nawaz Sharif in Jail

Bilawal Visits Nawaz Sharif in Jail

Bilawal Visits Nawaz Sharif in Jail

بلاول کی نوازشریف سے جیل میں ملاقات

بینظیر (مرحومہ) کے بیٹے BBhuttoZardari@ نے نوازشریف کے ساتھ جیل میں ملاقات کی ہے۔

میں نے بلاول بھٹو کے حوالے میں اسکی ماں کا ذکر کیوں کیا ہے؟

سیاستدان ماں کا پٹا ہوا مہرہ

اس لیے کہ بلاول کا ابھی پاکستان کی سیاست میں آٹے میں نمک برابر بھی کوئی مقام نہیں۔! اور جو بھی مقام وہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ بی بی شہید اور بھٹو شہید کے ناموں ہی سے تو حاصل کرتا ہے۔! اپنی اسکی پہچان زرداری کی ہے جسکو وہ اپنے لیے کلنک کا ٹیکا سمجھتا ہے! اور اپنے نام کے ساتھ اپنے باپ یعنی زرداری کا نام تک لانا گوارا نہیں کرتا! – ایک بیٹے کے لیے شرمندگی کا کیا مقام ہے!

مرحومہ بینظیر کا نام اس لیے بھی لیا ہے! کہ اسی نوازشریف کے دورِ حکومت میں یہی بینظیر اسی بلاول کی انگلی تھامے! زرداری کو ملنے جیل جایا کرتی تھی۔

نام اس لیے بھی لیا ہے !کہ اسی نوازشریف نے اسی بینظیر کی عریاں شدہ تصاویر اخبارات اور پمفلٹ بنا کر ہیلی کاپٹرز سے پھینکوائی تھیں۔

مرحومہ کا نام اس لیے بھی لیا ہے !کہ وہ ایک اعلیٰ سیاستدان کی اعلیٰ سیاستدان بیٹی تھی! جس نے اپنی سیاسی زندگی کو تباہ اس وقت کر لیا جب اس نے دو غلط قدم اٹھائے۔ 

ایک زرداری سے شادی کر کے اور دوسرا زرداری کی! یہ بات مان کر کہ اگر ہمیں پاکستان مٰیں سیاست کرنی ہے تو نوازشریف کی طرح کرنی ہے!: جھوٹ، فراڈ، الزامات، ضمیروں کی خریداری، فسادات، قتل، عورت زنی اور کرپشن!

مرحومہ کا نام اس لیے بھی لیا ہے کہ ایک نیک سیرت سیاستدان جب ان سب باتوں پر رضامند ہو گئی تو اسے اپنے سیاستدان ضمیر کو مارنا پڑا اور نواز شریف کے ساتھ اس وقت ہاتھ ملانا پڑا جب پاکستان میں ان دونوں کی ساکھ برباد ہو رہی تھی۔ یوں میثاقِ جمہوریت دراصل کرپشن کے اندھادھند کاروبار کو بچانے کا ایک بہانہ تھا۔

کرپشن کے جلے

آج اسی مرجومہ کا بیٹا نوازشریف کی گود میں جا بیٹھا کہ ہماری تباھی ایک جیسی ہے!، ہمیں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنا ہو گا۔ تمہیں مجھے گود لینا ہی ہو گا۔! میں تمہیں اپنی ماں کی توھین معاف کرتا ہوں۔

تم بھلے اسکے ننگی تصاویر اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنے والے سور تھے!، مگر اس وقت مجھے مفاد نے گھیر رکھا ہے!، میں نے اپنی ننگی ماں کی حرمت کو مار دیتا ہوں۔

کسی طرح ہم دونوں اس ملک کے کرپٹ ترین، بدترین پارٹیاں ملکر اپنے سروں پر لٹکی ہوئی اس تلوار کو ہٹا دیں! – پھر جب ہم مخالف بنیں تو ایک دوسرے پر بھونکنا شروع کر دیں گے !– مگر فی الحال بچاؤ کا بندوبست کرو!

بلاول کا کہنا تھا کہ ہمارے دین اور معاشرے کا حصہ ہے کہ اگر کوئی بیمار ہو تو اسکی تیمارداری کی جائے۔ کتنی عجیب بات ہے نا کہ حسن نواز اور حسین نواز اس ضمرے میں نہیں آتے۔

MaryamNSharif@ دوہائیاں دے رہی ہے کہ باپ کی طبیعت خراب ہے مگر مجال ہے کہ ان ناسوروں کو توفیق ہو کے اپنے اس باپ جس کے تخم سے انہوں نے جنم لیا ہے وہ آ کر اپنے باپ کو دیکھ لیں! اسقدر ناہنجار اولاد!

علاج

بلاول کا کہنا ہے کہ میاں صاحب بالکل بھی ٹھیک دکھائی نہیں دے رہے تھے اور یہ حکومت کی ذمے داری ہے انکو علاج دے۔۔۔ بلاول صاحب آپ نے اس پر بھی کچھ کہنا ہے کہ نوازشریف کا علاج پاکستان میں کیوں نہیں ہو سکتا؟

ساتھ ہی یہ بھی شور مچانے کی تابڑ  توڑ کوشش کی جا رہی ہے کہ نوازشریف پاکستان میں کسی ڈاکٹر سے علاج نہیں کرائے گا!

کیوں؟ کیا پاکستان میں کوئی ایسا قابل ہسپتال نہیں جس میں نواز شریف کا علاج ہو سکے؟ او! اچھا! نہیں! تو پھر سوال یہ ہے کہ اس میں قصور کسکا ہے؟ عمران خان کا؟

آج اگر پاکستان میں ایک بھی نوازشریف کا چاھنے والا تھوک برابر بھی عقل رکھتا ہے تو وہ سوال پوچھنے کا حق بجانب ہے کہ سور کے تخم تم نے 3 بار حکومت کر کے کیا بنایا ہے؟ آج اگر تمہیں کسی ہسپتال یا کسی ڈاکٹر پر یقین نہیں تو تمہیں اپنے منہ پر تھوکنا چاہیے۔ یہ حالات تمہارے اپنے پیدا کیے ہوئے ہیں!

اگر تم لندن ہی جا کر علاج کرانا چاہتے ہو تو شریف خاندان کی تمامتر جائیداد اور رائے ونڈ کا محل سرکار کے آگے گروی رکھوا دو کہ اگر میں واپس نہ آؤں تو سب پاکستان کا!

یقین جانو نواز شریف، پاکستان میں سوائے کند ذہن کے کسی کو تمہاری کمی محسوس نہ ہو!

Bilawal Visits Nawaz Sharif in Jail

بقلم: مسعودؔ

Kot Lakhpat Jail, Nawaz Sharif, Shehbaz Sharif, Benazir Bhutto, #PMLN, #PPPP

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment