Current Affairs

Current Affairs: Two News and My Views

Current Affairs: Two News and My Views

دوخبریں اور میرا بتصرہ

زاردی گینگ اور شریف گینگ کا آپس میں اتحاد ہو گیا ہے!

Current Affairs: Two News and My Views

اتحاد کس بات پر؟ اتحاد اس بات پر کہ موجودہ حکومت کسی قسم کا این آر او دینے کو تیار نہیں۔

کسی قسم کی  نرمی برتنے یا کسی قسم کی چھوٹ دینے کو تیار نہیں۔ اور شرفیوں کے ساتھ ساتھ زرداری بھی دن بدن بری طرح پھنس چکا ہے۔اب ان کے کرپشن کے بازار کو بچانے کے لیے ایک دوسرے کے پاؤں چاٹنا انتہائی ضروری ہو چکا ہے۔ ورنہ یہ دونوں پارٹیاں ایک دوسرے  پر کتوں کی طرح بھونکتی رہی ہیں ایک دوسرے کی مائیں بہنیں ایک کی ہیں۔

بینظیر جیسی باحرمت عورت کو بے آبرو کروا چکی ہیں۔ نون گینگ نے بے نظیر کی گندی تصاویر بنوائیں اور زرداری گینگ نے اسے قتل کروایا۔

آج دونوں شیطان کے تخم ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو گئے ہیں کیونکہ انکے گناہوں کے پردہ فاش ہوتا جا رہا ہے!

پاکستان میں ایسے لوگ موجود ہیں جو ان سور کے بچوں کے بھونک کر اپنی روزی تلاش کرتے ہیں ان میں شاھدخاقان عباسی، مریم اورنگزیب، مشاھداللہ خان، مولابخش چانڈیو، قمرزماں کائرہ جیسے خودساختہ باعزت لوگ بھی موجود ہیں۔

ان دونوں پارٹیوں کا اتحاد اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ یہ لوگ اپنے مفاد کے لیے شیطان کو باپ بنانے سے دریغ نہیں کریں گے۔ مگر مجھے یقین ہے جب تک عمران خان ہے انکا این آر او قبول نہیں ہو گا۔


دوسری خبر سننے میں آئی ہے کہ پرائمری تک کی جماعتوں سے انگلش کی تعلیم ختم کر دی گئی ہے۔۔۔

Current Affairs: Two News and My Views

میں نہیں جانتا کہ یہ خبر درست ہے کہ نہیں میں نے یہ خبر کسی سرکاری ذریع سے نہیں سنی۔

اگر یہ خبر درست ہے تو  یہ ایک اتنہائی جاہلانہ فیصلہ ہو گا۔

آج سے کوئی بیس سال پہلے میں نے ایک SAP Implementation کا پروجیکٹ کیا تھا جس میں ہمیں سارا سسٹم ڈینش میں ترجمہ کرنا پڑا تھا کہ اس کمپنی کے وورکرز نے انگلش میں کام کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

ایک تو انگلش میں انکا ہاتھ تنگ تھا دوسرا وہ ڈینش کو ترجیح دیتے تھے۔ کوئی دس پندہ سال بعد حالات ایسے بدل چکے ہیں کہ اس ملک میں لاتعداد کمپنیاں انگلش کو اپنی آفیشل زبان بنانے پر مجبور ہو چکی ہیں، ڈاکومنٹ وغیرہ سب انگلش میں ہونے لگے ہیں، کیوں؟

دنیا ایک گلوبل ویلج بن کر رہ گئی ہے، آج  کی ترقی کی ہر راہ انگلش سے ہو کر جاتی ہے۔

کیا سائنس، کیا ٹیکنیک، کیا انفارمیشن ٹیکنولوجی سب کی سب انگریزی کی مرہونِ منت ہے۔

ہم پاکستان میں ان میں سے کوئی بھی کام ایسا نہیں جس میں کوئی مقام رکھتے ہوں، نہ سائنس، نہ ٹیکنولوجی – چاہے وہ کسی بھی طرح کی ہو اور ایسے میں جب دنیا کی قوموں کے پاس ترجمہ کر کے پڑھنا یا ترقی کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔

وہاں پر اگر آپ انگلش نہیں سیکھیں گے تو یہ آپ کا اس قوم پر احسان نہیں بلکہ بہت بڑا جرم ہو گا!

بجائے اسکے کہ اسکولوں کے سلیبس کو درست کیا جائے انہیں چیلنجنگ کیا جائے انہیں پائیدار کیا جائے ہم وہ فیصلے کرتے ہیں جو سراسر جذباتیات  سے بھرے ہوتے ہیں۔۔۔

بقلم مسعود

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment