Current Affairs Politics

Year 2018 – Brief Review

.2018.پاکستان کی سیاست میں کیسے گزرا؟

2018 جن ہنگاموں سے آیا انہیں ہنگاموں سے گزر گیا!

سال کے ابتدائی ماہ اس انتظار میں گزر گئے کہ جے آئی ٹی کا کیا فیصلہ آئے گا۔ پاناما لیکس اپنے آخری انجام کی جانب بڑھ رہی تھی اور اس پر اپوزیشن نے خوب بڑھ چڑھ کر سیاست کی۔ پی ٹی آئی کی سیاست تو سمجھ میں آتی تھی کہ انہوں نے حقیقی معنوں میں پاناما لیکس کو زندہ رکھا اور اسکو اسکے حتمی انجام کی جانب لے جانے کی بھرپور کوشش کی۔

جبکہ پیپلزپارٹی نے بھی پاناما لیکس کو حتمی الامکان حد تک کیش کرانے کی کوشش کی۔ کوئی ٹی وی شو، کوئی سیاسی جلسہ، کوئی بیان ایسا نہ گزرتا جس میں ‘ٹھاکر تسی تے گئیو‘، ‘نوازشریف گاڈفادر‘ ، ‘ہم تو پہلے ہی کہتے تھے‘ کے آوازے نہ کسے جاتے۔

دوسری جذباتی پارٹیوں جیسا کہ جماعتِ اسلامی بھی اسکو کیش کرانے کی بھرپور کوشش میں تھی اور مولوی سراج نے بھی اپنے کارندے اسکو کیش کرانے کے لیے دوڑا دئیے اور مردِ مجاھد تک کا لقب لے لیا۔

الیکشن کا اعلان بھی ہو چکا تھا اور الیکشن کی تیاریاں اپنے عروج پر تھیں، سراج الدین نے پختونخواہ میں پی ٹی آئی کی حکومت سے اتحاد توڑ کر اپنے راستے جدا کر لیے اور اپنے تئیں اپنی راھیں الگ کر لیں اور مذہب کے نام پر سیاست شروع کر دی۔

جگہ جگہ جلسے جلوس منعقد ہوتے اورہر پارٹی یہی دعویٰ کرتی کہ ان کا ‘یہ والا جلسے باقی تمام جلسوں سے بڑا تھا‘ جبکہ سچ یہ تھا کہ سوائے پی ٹی آئی کے کوئی بھی حقیقی معنوں میں اپنی عوامی مقبولیت کو دکھا نہ سکا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملاؤں نے جن کا سرغنہ اس صدی کا سب سے بڑا منافق فضل الرحمنٰ تھا اور جو جمیعت علمائے اسلام کے پرچم تلے متحدہ ہو گئے تھے انہوں نے لاہور میں عالیشان جلسہ کیا مگر کتنے لوگ کہاں کہاں سے اٹھا کر لائے گئے یہ وہی جانتے ہیں، سچ یہ ہے کہ منافق فضل الرحمنٰ کو عوام نے بری طرح مسترد کیا!

حکومت نے بھی ہر اس ہتھکنڈے کا استعمال کیا جو انکی دسترس میں تھا، سوشل میڈیا سے لیکر دوسری پارٹیوں کے بینرز ہٹا کر اپنے بینرز لگانے تک، سرکاری ٹی وی کے غلط استعمال سے لیکر ضمیروں کی خریداری تک، نون لیگ جو کچھ ماضی میں کرتی چلی آ رہی تھی، اسکو بھر پور طور پر استعمال کیا۔ نون لیگ نے پی ٹی آئی کی مقبولیت کو توڑنے کے لیے عائشہ گلالئی تک کا ضمیر خریدا اور اس کو عمران خان کی ذات پر غلیظ ترین الزامات لگانے تک استعمال کیا، جب یہاں بات ختم نہ ہوئی تو نون لیگ نے عمران خان کی سابقہ بیوی ریحام خان کو کڑوڑوں دیکر ایک کتاب لکھوائی جس میں عمران خان کی ذات کو بری طرح مسخ کرنے کی کوشش کی، سرکاری خرچے پر مریم صفدر کا سوشل میڈیا آرمی اور عمران خان کے خلاف 24 گھنٹے کام کر رہا تھا۔

اپریل میں پاناما لیکس کا فیصلہ آیا اور نوازشریف کو تاحیات نااھلی کیساتھ ساتھ 11 سال کی قید بامشقت کی سزا سنا دی گئی، مریم صفدر کو فوجری کے الزام میں 8 سال قید سنائی گئی اور کیپٹن صفدر کو 2 سال کی قید سنائی گئی۔ ملکی سیاست میں ایک ہلچل مچ گئی، اس دوران بیگم کلثوم جس پر پاکستان میں کیس چل رہا تھا، لندن میں وفات پا گئی۔

نوازشریف نے سزا کی اپیل دائر کر دی، اور اپنے پرانے جیل کے ساتھی شاھد خاقان عباسی کو قائم مقام مگر کٹھ پتلی وزیراعظم مقرر کر کے اسکی وفاؤں کا سودا کیا۔ عباسی ڈیکٹیشن لینے کے لیے ایک غیرسرکاری دورے پر امریکہ گیا جہاں پرائرپورٹ پر اسکو انڈروئیر تک ننگا کر کے تلاشی لے گئی!نون لیگ کا ایک اور منافق اسحٰق ڈار اپنے جرائم کو چھپانے کے لیے ملک سے فرار ہو کر برطانیہ پہنچ کر سیاسی پناہ لے لی۔

جولائی میں الیکشن ہوئے اور پی ٹی آئی غیرواضح اکثریت سے جیت گئی جبکہ اس الیکشن میں بڑے بڑے برج گر گئے اور خاص کر منافق اعلیٰ فضل الرحمٰن کو ہر اس حلقے سے شکست ہوئی، جہاں وہ کھڑا ہوا۔ اسکے علاوہ بلاول بھٹو اپنے لیاری کے اس حلقے سے ہار گیا، جہاں کبھی بھٹو جیتا، بے نظیر جیتی۔ شہبازشریف اپنے لاہور کے علاوہ تمام حلقوں سے ہار گیا، مولوی سراج اپنے حلقوں سے ہار گیا۔ عمران خان 5 حلقوں میں کھڑا ہوا اور پانچوں سے جیت گیا، جن میں سے لاہور کے حلقے میں مخالف سعدرفیق تھا۔

بہت شور ہوا، غل ہوا، شرابا ہوا، ہارنے والوں نے چیخ چیخ کر اپنے آپ کو معصوم ثابت کیا کہ ہم ہار سکتے ہی نہیں، ہمارے ساتھ دھاندلی ہوئی ہے، سارا کیا دھرا اسٹیبلشمنٹ کا ہے، کسی مائی کے لعل میں جرات ہو ہی کیسے سکتی ہے کہ وہ ہمیں ہرا سکے، لہٰذا جو کچھ ہوا وہ دھاندلی تھی، جبکہ اسی وقت عالمی مبصرین پہلی بار پاکستان میں کسی انتخابات کو شفاف ترین انتخابات قرار دے رہے تھے۔ پہلی بار کسی نے عالمی سطح پر پاکستانی انتخابات کو منظم اور غیرجانبدار کہا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں ہر وہ بندہ جو سیاست سے وابستہ ہے، اور خاص کر پیپلزپارٹی اور نون لیگ مع مولویوں کے یہ تصور کر ہی نہیں سکتے وہ کسی میدان میں ہار سکتے ہیں، جب تک یہ جیتیں، سب درست ہے اور مینڈیٹ کا درست استعمال ہوا ہے اور جب بازی آپ کے خلاف ہے تو سب غلط ہے سب دھوکہ ہے سب دھاندلی ہے: وہ پرانا روگ!

انتخابات کو نا ماننے کے لیے اے سی پی بنائی گئیں، ملک کو جام کرنے کے دعوے کیے گئے، دھنگافساد کا اعلان کیا گیا ان تمام کے پیچھے فضل الرحمٰن سرفہرست رہا، کیونکہ فضل الرحمٰن کو ہار منظور نہیں تھی مگر اپنے بیٹے کو اسپیکر قومی اسمبلی بنانا منظور تھا، اسے باقی ہر دوسرا عہدہ منظور تھا۔۔۔ مگر اسے کچھ بھی نہ ملا اور نہ ہی ملک جام ہوا، بلکہ سب نے انتخابات کو قبول کر لیا اور پی ٹی آئی نے ایک مخلوط حکومت بنائی۔ اس میں انہیں ایم کیو ایم کو بھی سینے لگانا پڑا۔

انتخابات کے کچھ ماہ بعد مولانا سمیع الحق خان کو قتل کر دیا گیا۔ اور سال کے آخری دنوں میں ایم کیو ایم کے علی رضا عابدی کو بھی قتل کر دیا گیا۔

عمران خان نے وزیراعظم بننے کے بعد جب جب تقریر کی زبردست کی! پہلی بار پاکستان میں کوئی ایسا لیڈر آیا جو جو بھی کہتا اس پر یقین کرنے کو دل کرتا۔ 100 دن کا ایجنڈا بنا اور اس پر زبردست کام ہوا، ایک ڈائرکشن دی گئی جو اگلے پانچ سالہ پی ٹی آئی کی حکومت کی سمت کا تعین کرے گی۔ اس دوران نوازشریف ، مریم صفدر اور کیپٹن صفدر کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریلیف دی کہ انکی سزا ملتوی کر دی، مگر چند ہی دنوں بعد العزیزیہ کیس مین نوازشریف کو ایک بار پھر 7 سال قید بامشقت کی سزا سنا کر لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں بھجوا دیا۔ شہبازشریف اور سعد رفیق کو بھی کرپشن اسکینڈلز میں جیل بھیج دیا گیا۔

خاص خاص کریکٹرز

دوسری جانب احتساب کو شدت دی گئی اور آصف علی زرداری کے حوالے سے ایک بہت بڑا فراڈ کیس سامنے آیا جس میں لاکھوں بے نام اکاؤنٹ جن میں کڑوڑوں روپے کی کرپشن سامنے آئی، پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا میگا کرپشن کیس! اس میں زرداری سمیت فریال تالپور، بلاول بھٹو، ملک ریاض اور انگنت دوسرے اہم لوگ ملوث پائے گئے۔ حکومت نے 172 افراد کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا۔ سال کے آخری دن زرداری کو عدالت میں جوابدہی کے لیے بلایا گیا جس میں اس نے مزید ایک ہفتے کی توسیع مانگ لی!

اس دوران سپریم کورٹ نے ایک اور بہت بڑا اور اہم فیصلہ کیا، جس میں 2009 کے ایک توھینِ رسالت کیس میں ایک آسیہ مسیح نامی عورت کو عدم ثبوت کی صورت میں آزاد کر دیا، جس کی پاداش میں انتخابات میں ابھرنے والی ایک نئی پارٹی تحریک لبیک نے ملک گیر دہشتگردی کی اور جسکی پاداش میں نئی حکومت نے مولوی خادم حسین اور اسکے ساتھیوں کو جیل بھیج دیا۔

عدالت میں حاضری سے پہلے زرداری نے اور بلاول نے بے نظیر کے برسی پر بہت خطرناک دھمکی دی کہ وہ ملک کو تہس نہس کر دے گا اگر کسی نے اسکے خلاف کیس چلایا تو۔۔۔۔ دوسری جانب پیپلزپارٹی کا ہر رکن زرداری کے خلاف بنائی گئی جے آئی ٹی کو جھوٹ، فراڈ، غلطیوں کا پلندہ، بیجان پیپرز کہہ کر مسترد کرنا شروع کر دیا، وہی کھیل جو نون لیگ نے اپنایا۔

کھیلوں کے میدان میں پاکستان کی کارکردگی مکس رہی – کرکٹ میں کہیں اچھا کھیل پیش کیا، کبھی اپنی فطرت کیمطابق گھٹیا! کبھی عروج کبھی زوال اور یہی حال ہاکی کا رھا۔ ہاکی تو پاکستان میں تقریباً تباہ ہو چکی ہے جو کہ انتہائی افسوس کی بات ہے۔

سن 2019 بہت اہم سال ہو گا۔ پی ٹی آئی کی حکومت کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہو گا، اگر عمران خان کی حکومت نے اپنی کارکردگی کو بہتر سے بہتر بنا لیا تو عوامی مقبولیت عروج کی جانب جائے گی۔ یہ پاکستان کے لیے بہت اہم ہے کہ عمران خان جیسا لیڈر اس ملک کو ان مشکلات سے نکالے، جن میں پچھلی ناکارہ حکومتوں کی وجہ سے گر چکا ہے۔

2019 خوش آمدید!

بقلم: مسعود

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment