Meri Shairi Shab-o-Roz

صنم

صنم
صنم

آنکھوں کے آشیانے میں تیرا بسیرا ہے صنم
لاکھ جفا کرے یہ دنیا‘ تو میرا ہے صنم

حق نے جب کائنات سے اسکی طلب جو پوچھی
ہر کسی نے مانگی جنت مجھے تو بہتیرا ہے

آج بھی یادوں کے دریچے میں تیری صورت ہے
بن تیرے تو ہر جانب گھور اندھیرا ہے صنم

رسوائی سے خوف آتا ہے کبھی بے وفائی نہ کرنا
میرے انگ انگ میں رچا نام تیرا ہے صنم

جفا کی بات کبھی میں نے کی تو سزا دینا مجھے
میرے جیون کی ہر سانس پہ حق تیرا ہے صنم

صنم

مسعودؔ

Sanam 

logo

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

5 Comments

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.