Archive - December 18, 2018

Meri Shairi Shab-o-Roz

Ashaar

Ashaar اس کی آنکھوں میں اداسی کس کے نام کی تھی پیلی پیلی سی رنگت رخِ گلفام کی تھی سخت ترین ہو چلی تھی جب ایام کی تلخیاں برس رہی تھیں خرمن پہ چار سو بجلیاں گھٹا...

Meri Shairi Shab-o-Roz

Khizaein

Khizaein ایسی آئی ہیں خزائیں کہ بادِ بہاری کو ترسے ایسی چھائی ہیں گھٹائیں کہ روشنی کو ترسے  ایسا لوٹا ہے گردشِ دوراں نے ھمیں آنکھ اشکوں سے بھر گئی ہونٹ...

Meri Shairi Shab-o-Roz

Aankh aur Dil

Aankh aur Dil آنکھیں کتنی پاگل ہیں اک صدمہ بھی نہ سہہ سکیں پرُنم ہو گئی ہیں بدن کا ہے اک جُز دل پر نہیں اتنا بزدل صد غم سہے پر نہ ہارا ہمت رازِ محبت آشکار ہوا...