Meri Shairi Shab-o-Roz

Meri Shairi: Raat Ka Rahi

Meri Shairi: Raat Ka Rahi
Husn Hijab Niqab

Meri Shairi: Raat Ka Rahi

رات کا راہی

آنکھیں بند کر لو میں خوابوں میں نظر آؤنگا
محبت کی داستان ہوں کتابوں میں نظر آؤنگا

اپنی آنکھوں میں نہ سجا مجھے اے ہمدم میرے
رقص کرتا ہوا عکس ہوں سرابوں میں نظر آؤنگا

عشقِ لا انتہا ہوں صلیبوں پہ نظر آؤنگا
حسن بنا جس روز حجابوں میں نظر آؤنگا

رات کا راہی ہوں اجالوں میں بھٹک جاؤنگا
وفاؤں کا موتی ہوں خرابوں میں نظر آؤنگا

اِک حرفِ مدعا ہوں، ابھروں گا، مٹ جاؤنگا
آرزوئے لبِ عاشقاں ہوں عذابوں میں نظر آؤنگا

تلاش نہ کر مجھ کو روئے زمیں میں طارقؔ
صبح کا ستارہ ہوں شہابوں میں نظر آؤنگا

مسعودؔ

Meri Shairi: Raat Ka Rahi

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment