Meri Shairi Shab-o-Roz

Meri Shairi: Jab Bhi Merey Char Su

Meri Shairi: Jab Bhi Merey Char Su

Meri Shairi: Jab Bhi Merey Char Su

چار سو

جب بھی مرے چار سو
غم کے اندھیرے بڑھتے ہیں
میں تری نام کی شمع
اپنے دل میں روشن کرتا ہوں
بھولی بسری یادوں میں
نقوش ڈھونڈھتا رہتا ہوں
کوئی نقشِ پا جو مل جائے
اسی کو منزل سمجھتا ہوں
میں تری خوشبو کے سہارے
دن اپنے گزاردیتا ہوں
جب ہوا کسی پھول کو چومے
لمس ترا یاد آتا ہے
یہ بانہیں کبھی تھیں ہار تیرا
یہ ہار اب مرجھاتا ہے
ڈوبتے جاتے ہیں سبھی تارے
اک تارہ اب بھی ٹمٹماتا ہے
لاکھ اندھیرا سہی صنم
تو ہے تو دل مسکراتا ہے

مسعودؔ

Meri Shairi: Jab Bhi Merey Char Su

Shab-o-roz

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.