Meri Shairi Shab-o-Roz

Gohr-e-Shab’Tab

Meri Shairi: Gohr-e-Shab'Tab
Gohr-e-Shab’Tab
حسن تیرا مانندِ گوہرِ شب تاب ساتھیا
سدا چمکتا رہے تیرا شباب ساتھیا
شبِ چوھدویں کا تو مہتاب ساتھیا
نہیں تیرا کوئی اور جواب ساتھیا
تو ہے اک ایسا گلاب ساتھیا
پھیلی ہے جس کی خوشبو ہر سُو ساتھیا
مجھے نظر آئے ہر سمت تو ہی تو ساتھیا
یہ کیسا نشہ مجھ پہ کر دیا ساتھیا
محال جس نے جینا کر دیا ساتھیا
غم میں جینا چھوڑ دیا ساتھیا
ہوں میں خوشی سے دیوانہ ساتھیا
تو میری شمع، میں تیرا پروانہ ساتھیا
پسند مجھ کو ہے تیری ہر خُو ساتھیا
شمع کی روشنی ہے تو ساتھیا
تیری محبت ہے میری خلعت ساتھیا
تیری عزت ہے میری عزت ساتھیا
کی ہے ہم نے محبت ساتھیا
نہیں ڈرتی کسی سے الفت ساتھیا
لاجواب ہے تیری شرافت ساتھیا
تیرے سانسوں کی گرمی ہے خوشبو ساتھیا
میں ہوں تیرا میری ہے تو ساتھیا

Gohr-e-Shab’Tab

Shab-o-roz

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھا ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

3 Comments

Click here to post a comment

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham

FREE
VIEW