Meri Shairi Shab-o-Roz

Meri Shairi: Alfaz Bhi Hain Aur Wajah-e-Shikayat Bhi

Meri Shairi: Alfaz Bhi Hain Aur Wajah-e-Shikayat Bhi

Meri Shairi: Alfaz Bhi Hain Aur Wajah-e-Shikayat Bhi

الفاظ بھی ہیں اور وجہ شکایت بھی

Meri Shairi: Alfaz Bhi Hain Aur Wajah-e-Shikayat Bhi
الفاظ بھی ہیں اور وجۂ شکایت بھی
رقم دِل پہ ہے گزری ہوئی حکایت بھی
کبھی اداؤں سے لوٹا کبھی وفاؤں سے
یاد ہم کو ہے تیری ہر عنایت بھی
الوداع کہہ دو یہ وقتِ رخصت ہے
کر دو ہم پہ محبت کی رعایت بھی
کچھ اِس انداز سے مجھے بیوفا کہو
سما دل میں جائے لفظوں کی غنائیت بھی
دِلِ مضطرب تجھے طلب ہے کس شے کی
ترے نام کردی جذبوں کی سرایت بھی
چپ چپ سہنا اور آہ تک نہ کرنا
دِل والوں میں ہوتی ہے یہ خاصیت بھی
کون ساتھ چلے گا تیرے اب مسعودؔ
خود ہی کو پا لینے میں ہے عافیت بھی
مسعودؔ

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment