Meri Shairi Shab-o-Roz

Meri Shairi: Tujhey Khawabon Hi Mein Milna Tha

تجھے خوابوں ہی میں ملنا تھا

تجھے خوابوں ہی میں ملنا تھا، تو خوابوں میں ملی
وفا زمانے سے نابود ہو چکی، ہاں کتابوں میں ملی

ارمانوں کی آگ میں سلگنا محبوب ہو چکا ہے ہمیں
جاکر بھنور میں دیکھا، اپنی قسمت گردابوں میں ملی

پیار کا رستہ اک ایسا رستہ، جس کا اخیر نہ کوئی
پیار کے امتحانوں کی گنتی مجھے شہابوں میں ملی

کبھی عنم کو مناؤں تو کبھی سماج کی دیواریں گراؤں
جب بھی اک سانس رک کر سوچا، جان عذابوں میں ملی

مسعود

Shab-o-roz

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment