Meri Shairi Shab-o-Roz

Meri Shairi: Dil Key Zakhmon Ki Dawa Mehboob Ejad Nahin

دل کے زخموں کی دوا محبوب ایجاد نہیں

میں اداس ہوں تو کیا، لب پہ فریاد نہیں
کیا تقصیر ہوئی اے جہاں، کچھ یاد نہیں

اب کے ہوا کچھ ایسا خانہَ دل ویراں
صنم، تم آئے بھی تو ہوا یہ گھر آباد نہیں

بے رخی حد سے گذرے تو سزا ہو جاتی ہے
جفا بس کر! اب مجھ میں تابِ بیداد نہیں

چراغِ امید بجھا ہی دوں، در کو زنجیر لگا ہی دوں
یہ نہیں اے صنم کہ تیرے وعدے کا اعتبار نہیں

رات اندھیری ہے بہت، دن نکلے تو سوچوں
اُس دیس کو باندھوں رختِ سفر، جہاں صیاد نہیں

اہلِ سیاست کی باریکیاں کیا سمجھیں معصوم لوگ
ہم تو اُس مقام پر ہیں، جہاں فتنہَ و فساد نہیں

وہ ملیں تو انہیں اک پیغام دے دینا مسعودؔ
‘دل کے زخموں کی دوا، محبوب ایجاد نہیں‘

مسعودؔ

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment