Meri Shairi Shab-o-Roz

Meri Shaairi: Log Jab Poochhein To Kehta Hoon

Meri Shaairi: Log Jab Poochhein To Kehta Hoon
Log Jab Pochein

Meri Shaairi: Log Jab Poochhein To Kehta Hoon

لوگ جب پوچھیں۔۔۔

لوگ جب پوچھیں تو کہتا ہوں، جل پری ہے تو
مسافر ہوں میں پیار کا، منزل میری ہے تو
سمندر عشق کا میں ہوں، ساحل میری ہے تو
دل کے اندھیروں میں مانندِ مشعل جل رہی ہے تو

انمول ہے تو، باکمال ہے تو، لاجواب ہے تو
تعریف جسکی نہ کر سکوں، وہ شباب ہے تو

پیار مرے کی اک ایسی تصویر ہے تو
دنیا میں انمول، جان مری، بے نظیر ہے تو
لوگ دیوانہ کہیں جب کہوں میری تقدیر ہے تو
ہزار ناریاں حسین، میری ہیر ہے تو

باب الحیات میں مری مشیر ہے تو
میرے خوابیدہ خوابوں کی تعبیر ہے تو

لوگ جب پوچھیں تو کہتا ہوں، مری محبت ہے تو
لوگ جنت چاہیں، لیکن میری جنت ہے تو
آہوں میں نہ ڈھل جائے، ایسی حسرت ہے تو
دل جو نہ دکھا سکے، اک ایسی خصلت ہے تو

کہیں سے نہ پا سکوں وہ جنتِ بریں ہے تو
کل دنیا سے اے صنم حسیں ہے تو

Meri Shaairi: Log Jab Poochhein To Kehta Hoon

Jalpari, Musafir, Pyar, Manzil, Samundar, Saahil, Tasweer, Benazir, Deewana, Taqdeer, Heer, Khawab, Jannat, Hasrat.

Shab-o-roz
Image of Shab-o-Roz

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment