Meri Shairi Shab-o-Roz

Meri Shaairi: Nakaam Aarzu’oun Ka Janaza Uth Geya Hai

Meri Shaairi: Nakaam Aarzu'oun Ka Janaza Uth Geya Hai
Yaadein

Meri Shaairi: Nakaam Aarzu’oun Ka Janaza Uth Geya Hai

ناکام آرزؤں کا جنازہ اٹھ گیا ہے

Meri Shaairi: Nakaam Aarzu’oun Ka Janaza Uth Geya Hai

ناکام آرزؤں کا جنازہ اٹھ گیا ہے‘ اب تو آجاؤ
وادئِ دل کا دروازہ کھلا ہے‘ اب تو آجاؤ

تیرے آنے کی نوید آئی تو وادئ دل کا ذرہ ذرہ
آس کے غالیچوں سے سجا دیا ہے‘ اب تو آجاؤ

نگاہوں کی نشست پہ بٹھائیں گے دل کا قرار بنا کر
بڑی شدت سے اس لمحے کا انتظار کیا ہے‘ اب توآجاؤ

بہت سے جنم بیتے ہیں‘ بہت سے موسم بدلے ہیں
جانِ چمن‘ چمن تیرا مرجھانے لگا ہے‘ اب تو آجاؤ

دید کی پیاسی ان آنکھوں کو اور مت ستاؤ
تمہاری یاد میں دن رات ایک کر دیا ہے‘ اب تو آجاؤ

اب تو آجاؤ کہ دل کی دھڑکنوں نے بھی کہہ دیا ہے
تم نہ آئے تو زندہ رہنے میں کیا مزا ہے‘ اب تو آجاؤ

aarzu poetry, urdu sad poetry, naveed, nigah poetry, mausam, chaman, dhadkan poetry

مسعودؔ


Shab-o-roz

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھا ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham

FREE
VIEW