Meri Shairi Shab-o-Roz

Meri Shaairi: Yaad-e-Hangama-e-Pakistan

Meri Shaairi: Yaad-e-Hangama-e-Pakistan

Meri Shaairi: Yaad-e-Hangama-e-Pakistan

یادِہنگامہَ پاکستان

آتا ہے یاد مجھ کو ہنگامہَ پاکستاں جب
دھڑکتا ہے دل، کرتا ہے مضطر دل و جاں تب

کچھ یادیں سنہریں چھوڑ آیا ہوں کوسوں دور
خیال سا ہو کے وہ گیا ہے وہ سماں اب

کچھ احباب ہو گئے تھے جان سے پیارے
ہو گا کب پیدا انکی دید کا ساماں یا ربّ

اے زیست وفا کرنا، ایک بار تو ملا دے ان سے
موت برحق سہی پیاری ہے مجھے زندگیَِ ویراں کب

مسعودؔ

Meri Shaairi: Yaad-e-Hangama-e-Pakistan

Shab-o-roz

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment