Meri Shairi Shab-o-Roz

Meri Shaairi: Meri Bhi Chand Majbooriyan Hain

Meri Shaairi: Meri Bhi Chand Majbooriyan Hain

Meri Shaairi: Meri Bhi Chand Majbooriyan Hain

مجبوریاں

میری بھی چندمجبوریاں ہیں گر مدِ نظر رکھو
اپنی بے گناہیاں مت گنو‘ میری بھی خبر رکھو

نوشتۂ تقدیر ہے یہ اسے ہنس کر قبول کر لو
آج جو کھائی ہے تم نے یاد وہ ٹھوکر رکھو

اے دل‘ طغیانئ جنوں سے سبب تو ہی بتا دے
سب کچھ بہا دیا ہے کچھ تو بخیر رکھو

نوائے دل ہی یہ ہے کہ تو میری ہے
بھلا دیا ہے ہر وعدہ وہ بات تو حاضر رکھو

مسعودؔ

Meri Shaairi: Meri Bhi Chand Majbooriyan Hain

Shab-o-roz

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.