Meri Tehreerein Shab-o-Roz

Meri Tehreer: Bolo Ji Tum Kya Kya Khareedo Gey

بولو جی تم کیا کیا خریدو گے

Meri Tehreer: Bolo Ji Tum Kya Kya Khareedo Gey

میرادم گھٹنے لگتا ہے۔میں اس منڈی سے دورکہیں پرسکون ٹھکانے کی کی جانب قدم اٹھاتا ہوں۔

رات کے اندھیروں میں دور سے ایک ٹیلے پر جلتی ہوئی آگ نظر آئی ہے۔! میرے قدم خودبخود اُسی جانب بڑھنے لگتے ہیں۔

ٹیلے پر پہنچتے پہنچتے تھک جاتا ہوں، گھٹنوں پر ہاتھ دھرے منڈی کی روشنیوں کو دیکھ رہا ہوتا ہوں! کہ مجھے اپنے پیچھے قدموں کی چاپ سنائی دیتی ہے۔

مڑکردیکھتا ہوں کہ ایک بڑھیا، جس کے چہرے پر جھریاں، جسم ڈھلکا ہوا،! آنکھیں گویا پتھراسی گئی ہوں،! لباس گہراسبزاورسفیددوپٹہ، جو بظاہر تو صاف تھا مگر بہت سارے عیوب سے بھرا ہوا۔

عمر لگ بھگ 65 یا 66 سال، مجھے دیکھ کر کہنے لگی!: “ابھی سے تھک گئے ہو؟ ابھی تو تمہاری اِس منڈی میں ابتداہے،! ابھی تم نے دیکھا ہی کیا ہے؟

یہاں ہرکوئی سوداگرہے، کوئی بیچتا ہے تو کوئی خریدتا بھی ہے۔! میرے پاس آئے تو بتاؤ کیا خریدوگے؟”۔

میں نے اُس بڑھیا کو دیکھا اور حقارت بھرے لہجے سے کہا!: “بڑھیا تم کیا بیچوگی؟تمہارے پاس بیچنے کو ہے ہی کیا؟”۔

یہ سُن کر بڑھیا نے نفرت سے میری جانب دیکھا اورمنہ پھیر لیا۔! چندلمحوں کی خاموشی میں زورپکڑتی ہوا کے سوا کچھ اورسنائی نہ دیا۔! پھربڑھیا نے میری طرف دیکھا اور گویا ہوئی:

“تم کہتے ہو کہ میں تمہیں کیا بیچوں گی؟! تمہارے اور تمہارے جیسے ناشکروں کے لیے ہم نے کیا کیا بیچا ہے سنو!! – میں نے ایک ہندوگھرانے میں جنم لیا، شانتی نام تھا میرا، اسلام کا پیغام میرے باپ کو متاثرکیے بن نہ رہ سکا، والدین نے اسلام قبول کیاتو ہرجانب سے ظلم وجبر کے پہاڑٹوٹ پڑے، وہ کونسا ظلم ہے جو ہم نے ایک اللہ کی وحدت کی گواہی پر نہیں اٹھایا۔ بالآخرہمیں ہندوسماج سے الگ ہوناپڑا، تقسیم ہوئی اور ایک نئے ملک ، نئی سرزمین، نئی امنگیں لیے سفرپرگامزن ہوئے۔ سرحدپارکرنے سے پہلے ہی میراشوہر اور جوان بھائی کے ٹکڑے ٹکڑے کردئیے گئے۔ ہماراجائز حق بھی ہندؤں نے لوٹ لیا، بےسروسامانی کی حالت میں اپنے چھ بچوں کے ساتھ اس نئے ملک میں داخل

ہوئی۔! محنت کی مزدوری کی،مشقت کی، بچوں کو پڑھایا، باشعورکیا۔! دشمنوں کی چالوں کے باوجودستمبر کی راتوں کو جاگ جاگ کراپنے چھ بچوں کی حفاظت کی،! دشمن کی ہرچال کو ناکام بنایا۔

مگر جب ایک بیٹا24 سال کا ہوا،! کمانے کے قابل ہوا تو سازشوں کاایک اور جال بچھا! اور اس بار میں اُسے کھو بیٹھی، میرا بازو کٹ گیا۔

اس کے دل میں اس قدر نفرت بھردی گئی! کہ اس نے اپنا نام تک بدل لیا۔! میں نہیں جانتی تھی کہ یہاں پر قدم قدم پر لٹیرے چھپے بیٹھے ہیں۔! کوئی مذہب کے نام پر جہاد کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتا اور میری اولاد کو موت کے منہ میں دھکیلتا،! کوئی مسلک کے نام پر خونی آنکھ مچولی کھیلتا، کوئی لٹیرا اپنے سیاسی مفاد حاصل کرنے کے لیے میری اولاد کو استعمال کرتا! اور سرِعام یوں خون بہاتا جیسے انسان کاخون پانی سے سستا ہے، کوئی میرے بچوں کو دہشتگردی کے نام پر کافروں کے آگے بیچتا، خزانے لٹے مگر لوٹنے والوں کے دل نہ بھرے۔

 بار بارہمیں لوٹا جاتاقانون سے مدد مانگی تو قانون گونگا اور بہرہ ملتا اورتم کہتے ہو کہ ہم تمہارے جیسے ناشکروں کے لیے کیا بیچیں گے؟! – ہمارے کس احسان کا بدلہ چکا سکتے ہو تم؟! ایک ایک رتی لوٹ لی تم لوگوں نے اس منڈی کی،! آزادی کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی ہیں تم نے اور تم کہتے ہو کہ میں تمہیں کیا بیچوگی؟؟؟”

          بڑھیاسسکیاں لینے لگی، ایک لمحے کی خاموشی ہوئی! اور بڑھا زمین پر ڈھیر ہو گئی۔! تیز ہوا کا جھونکا ایا اور بڑھیا کا دوپٹہ اُڑ کر میرے چہرے پر گر گیا۔! بظاہر سفید مگر 65 سال کے دکھوں، ناانصافیوں، تکلیفوں اور کربوں سے بھرا دوپٹہ میں نے پکڑا اور بڑھیا کا کفن بنا کر بولا!:

“اِس خطے کی شانتی تو کب کی مرچکی ہے ماں، اب اِس ملک کا امن بھی خریدا جاتا ہے”

بولوجی تم کیا کیا خریدو گے؟؟

وہ سفرجوایک بہت بڑا سودا کرنے کی نیت سے شروع ہوا، وہ دل کا روگ بن گیا!

مسعوؔد ، کوپن ہیگن ،اپریل 2005

ARY Morning Show, GEO Morning Show, Morning Show Pakistan, Urdu Adab, Urdu Novel, Writer Urdu, Pakistan People, Urdu Language, Heera Mandi.


About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment