Meri Shairi Shab-o-Roz

Insaan Jo Sochta Hai

Insaan Jo Sochta Hai
Insaan Soch
انسان جو سوچتا ہے‘ قسمت میں وہ نہیں
محبوب جو چاہتا ہے‘ محبت میں وہ نہیں
بہت سی آسیں لگاتا ہے وہ اپنی تقدیر سے
خواب جو دیکھتا ہے‘ حقیقت میں وہ نہیں
دنیا نے سمجھا ہے‘ ہمارے پیار کو دیوانگی
جہان جو سمجھتا ہے‘ چاہت میں وہ نہیں
قفس میں تڑپ رہا ہے اک بے زباں قیدی
آزادی جو چاہتا ہے‘ حرّیت میں وہ نہیں
یہ سونا‘ یہ چاندی‘ یہ دولت تجھے مبارک ہو
مسعودؔ جو چاہتا ہے‘ حسرت میں وہ نہیں

logo

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھے ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham Network Community

FREE
VIEW