Meri Shairi Shab-o-Roz

Terey Baghair

Meri Shaairi: Terey Baghair (Nazm)
Terey Baghair

 میں نے تجھ کو بہت یاد کیا ہے
دل کے معمورے میں آباد کیا ہے
روٹھ کر جانے والے
مجھ کو تڑپانے والے
تیری یاد میں میں نے
دن گذارے ہیں کیسے
کاش تو آکر دیکھے
بھیگے ہیں نین جھروکے
دل کی گہرائیوں سے
آتی ہے صدا یہ
دل کی دھڑکنوں کو دل سے
کیا ہے جدا تو نے
تو سمجھتی ہے یہ کہ
نہ جئیں گے بن تیرے
مگر یہ محسوس تو کر
اک لمحے کی سکت تو بھر
تیرے بن جی سکتے ہیں
جامِ غم پی سکتے ہیں

محفل سے دور تنہائی سے دوستی کر لی
تیرے ہونٹوں سے نہیں تو کیا تصویر سے مستی کر لی

مسعودؔ

Meri Shaairi: Terey Baghair (Nazm)

logo

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

November 2018
MTWTFSS
 1234
567891011
12131415161718
19202122232425
2627282930 

PG Special

Pegham

FREE
VIEW