Current Affairs

Current Affairs: Jago Jago Huwa Sawera

Imran Khan Injured
Imran Khan Injured

جاگو جاگو ہوا سویرا!

جو لوگ مجھے پچھلے دس برسوں سے مختلف فورمز کے حوالے سے جانتے ہیں وہ مجھے “جلی کٹی سنانے والا” کہتے ہیں۔

شاید اس لیے کہ میرے قلم میں ایک تلخی ہوا کرتی ہے، ایک تشنگی ، ایک جارحیت ہواکرتی ہے۔ کیوں؟ شاید اس لیے کہ میں وطن سے دور رہنے کے باوجود وطن سے وہ محبت کرتا ہوں، جو اکثر ایسے لوگ جو وطن میں رہتے ہیں، نہیں کرتے ۔

میں حالات کی ناانصافیوں کے خلاف اپنے قلم سے برسرِپیکارہوں، میں اس نظام کے خلاف زہر اگلتا ہوں جس نے ہمارے معاشرے کو پچھلے 67 سالوں سے مایوسی، غفلت اور ناامیدی کی ان گہرائیوں میں پھینکا ہوا تھا، جس سے نکلنا مشکل تر ہوتا جارہاتھا۔ میں اس سیاست سے نفرت کرتا تھا جو مفادپرستی، کنبہ پروری اور کرپشن پر پلتی تھی۔ میں ایسی جمہوریت کو طوائف کہتا تھا جو پیسے والے کے آگے بیچی جاتی رہی ہے۔ میں ایسی عوام کو منافق کہتا تھا جو ظلم تو سہتی تھی، مگر بغاوت نہیں کرتی تھی۔

مگر آج میں ایسی کوئی بات نہیں کرونگا۔ بلکہ میں آج تمہیں یہ پیغام دیتا ہوں کہ تمہاری تقدیر تمہارے اپنے ہاتھ میں ہے۔ تمہارا مستقبل تمہارے اپنے ہاتھ میں ہے۔ تم اس ملک میں کیا چاہتے ہو؟ اسکا فیصلہ تمہیں خود کرنا ہے۔ کیونکہ یہ ووٹ تمہارا ہے جس کے بل بوتے پر تمہارے مقدر کا فیصلہ کرنے والے پارلیمنٹ میں بیٹھ کر بھی کرپشن کا کھیل کھیلنے سے باز نہیں آتے۔

ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ تمہیں اپنی آنکھیں کھولنا ہونگی! تمہیں دیکھنا ہوگا کہ تمہارے صحن میں ایک نئی صبح جنم لینا چاہتی ہے۔ روشنی کی کرنیں تمہارے باہر کھڑی ہیں تمہیں صرف کھڑکی کھولنی ہے تاکہ وہ تمہارے اندھیرے کمرے میں داخل ہوں۔

میں جانتا ہوں یہ کرنیں تمہاری آنکھوں کو چندیا دیں گی کیونکہ تم نے 67 سالوں سے صرف اندھیرا ہی دیکھا ہے۔ اتنا عرصہ اندھیرا دیکھنے کے بعد جب روشنی نظر آئے تو آنکھوں کا چندیا جانا کوئی معیوب نہیں! میں یہ بھی جانتا ہوں کہ تم اس روشنی پر یقین نہیں کرو گے کیونکہ تمہارے گھروں میں اکیسویں صدی میں بھی بجلی نہیں تھی۔

میں جانتا ہوں تمہیں قدم قدم پر ورغلانے والے بہت ہونگے۔ تمہیں راہ حق سے پھسلانے والے بہت ہونگے، جو طرح طرح کے حربوں سے تمہیں پھرسے اس نیند میں سلانے کے کوشش کریں گے جس سے تمہیں اب جاگنا ہے۔ میں جانتا ہوں تمہیں ابھی تک یقین نہیں آئے گا کہ یہ روشنی سچ میں تمہارے مستقبل کو اجالا بخشے گی – تو گھبرانے کی بات نہیں میرے دوست! یہ فیصلہ اب تمہیں کرنا ہے کہ تمہیں کیا چاہیے!

تمہیں اپنے آپ کو پہنچانا ہے، اپنے حق کو پہچاننا ہے! تم غلام نہیں! تم جانور نہیں کہ تمہیں جس سمت چاہے ہانک لیا جائے۔ تم انسان ہو! تم مسلمان ہو! تم پاکستانی ہو! ضرورت اس بات کی ہے کہ تمہیں خود اپنے حق کے لیے لڑنا ہو گا۔ اگر تم اب نہیں لڑو گے تو جان لو کہ تم پھر سے ان اندھیروں میں پھینک دئیے جاؤ گے جہاں سے پھر اٹھنا بہت ہی مشکل ہو جائے گا۔ یہ جنگ اب تمہیں جیتنی ہے، نہ صرف اپنے لیے بلکہ اپنی آئیندہ آنے والی نسلوں کے لیے۔ جہاد کرو! ناانصافیوں کے خلاف جہاد کرو! ظلم کے خلاف جہاد کرو! تمہارے لیے تمہارا مستقبل روشن ہے! مگر اس روشنی کو حاصل کرنے کے لیے جدہ جہد کرنے کی ضرورت ہے۔ایک آخری جدو جہد! دیکھو ذرا روشنی گھر گھر پھیل رہی ہے۔ تم جیسے بہت سارے لوگ اس روشنی میں آنکھیں کھول رہے ہیں، تمہیں بھی اب آنکھیں کھولنا ہونگی۔ روشنی تمہارا مقدر ہے اگر تمہیں روشنی کی تلاش ہوتو! تمہیں ایک لیڈر کی ضرورت تھی، وہ لیڈر تمہارے سامنے موجود ہے! وہ کرپٹ نہیں، وہ بے ایمان نہیں، اسکی ملک سے باہر جائدادیں نہیں، وہ تمہارا دکھ درد جانتا ہے، اس نے تمہارے بہتر مستقبل کے لیے اپنی نیندیں اپنا سکھ چین یہاں تک اپنا گھر باہر اجاڑ لیا ہے! تمہیں اس لیڈر کا ساتھ دینا ہے! ایک آخری بار اس لیڈر کا ہاتھ تھام لو!

جاگو جاگو ہوا سویرا!

بقلم مسعود – 7 اکتوبر 2014

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment